ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 377
377 تھے ان کو بھی دیا۔قرآن کریم کا تحفہ بھی پوپ کو دیا۔اس کی تصویر بھی وہاں اخباروں میں آئی۔ان کی رپورٹ کا ایک حصہ میں سناتا ہوں۔جو اس کے بعد شریف عودہ صاحب نے لکھی۔وہ لکھتے ہیں کہ خاکسار نے اٹلی میں پوپ کی رہائش گاہ ویٹیکن میں مورخہ 2010-11-10 کو ان مذہبی لوگوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات کی جن میں اسرائیل کے حاخام اعظم جو ان کے بہت بڑے رہائی ہیں اور کچھ عیسائی اور یہودی اور مسلمان عہدیداران شامل تھے۔خاکسار نے پوپ کو ( میرا لکھتے ہیں کہ ) حضور کا خط پہنچایا اور انہیں بتایا کہ اس میں حضرت امام جماعت احمد یہ عالمگیر کا بہت اہم پیغام ہے۔انہوں نے یہ خط خود اپنے ہاتھ سے وصول کیا۔اسی طرح میں نے انہیں اٹالین ترجمہ قرآن کا بھی ایک نسخہ پیش کیا۔اٹالین اور اسرائیل ٹی وی نے نیز اٹالین اخبارات اور اسرائیل کے عربی اور عبرانی اخبارات نے خاکسار کی تصویریں پوپ کے ساتھ نشر کیں۔ملاقات کے بعد ویٹیکن ریڈیو پر ایک پریس کانفرنس تھی۔میں نے اس میں حضور کے خط کا ذکر کیا اور خلاصہ بیان کیا اور صحافیوں میں اس خط کی کا پیاں تقسیم کیں۔اسی طرح میں نے پیٹیکن میں مشرق وسطی میں موجود چھہ چز ( Churches) کے ذمہ دار کارڈینل وغیرہ کو بھی کا پیاں مہیا کی۔میں نے یہاں مذاکرات بین المذاہب کی کمیٹی سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے مجھے اپنی کا نفرنس میں بلانے کے لئے مجھے سے ایڈریس بھی لیا۔ان کی اگلی کا نفرنس آئندہ سال سرائیوو میں ہوگی۔جیسا کہ شریف صاحب کی رپورٹ سے بھی ظاہر ہے کہ اس موقع پر بعض مسلمان مذہبی لیڈر بھی تھے یا بڑے لوگ تھے لیکن پوپ کو اسلام کا اور قرآن کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی تو زمانے کے امام اور جری اللہ کے ایک غلام کو۔( خطبات مسرور جلد 9 صفحه 609 تا 611) خط کی عبارت گوخطبہ جمعہ میں حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پوپ کے نام اپنے خط کے مضمون کا خلاصۂ ذکر فرمایا۔تا ہم ذیل میں اس مکتوب گرامی کے مکمل انگریزی متن کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔یہ خط حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے لیٹر پیڈ پر حضور کے مبارک دستخطوں سے انہیں بھجوایا گیا۔محترم پوپ بینیڈکٹ صاحب شانزدہم میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا فضل اور رحمتیں نازل فرمائے۔بحیثیت امام احمد یہ مسلم جماعت عالمگیر میں عالی جناب پوپ کو قرآن کریم کا پیغام پہنچاتا ہوں۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تو کہہ دے۔اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوارت نہیں بنائے گا۔اسلام پر آج کل ساری دنیا کی نظر ہے اور بڑی کثرت سے اسے بیہودہ قسم کے اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے