ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page iii
iii پیش لفظ اللہ تعالیٰ قدیم سے اپنی سنت کے مطابق نبی اور رسول دنیا میں قیام تو حید اور اصلاح خلق کے لیے مبعوث فرماتا ہے۔پھر ان کی حمایت کرتا اور انہیں نہایت کمزوری کے وقت عزت و غلبہ عطا فرماتا ہے۔جبکہ ان کے مخالف دشمن خائب و خاسر اور ذلیل ہوتے ہیں۔خدائے غیور و قدیر کی غیرت وقدرت کا یہ اظہار اپنے ان بے کس عاجز بندوں کے لیے ہوتا ہے جو اپنے رب کی رضا کی خاطر جان، مال، وقت، عزت اور سب کچھ خدا اور اس کے رسول پر فدا کر دیتے ہیں۔دوسری طرف یہ الہی سنت بھی ازل سے جاری ہے کہ مخالفین کی طرف سے انبیاء کی تکذیب میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی۔انہیں استہزاء اور تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر وہ خود بھی صبر کرتے اور اپنے مومن جانثاروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہیں۔سلسلہ انبیاء کے سرتاج اور رسولوں کے فخر ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سنت دہرائی گئی۔کفار مکہ نے نہ صرف آپ کو ساحر ، مجنون ، کذاب وغیرہ کے مذموم الفاظ سے یاد کیا بلکہ آپ کا نام ہی ( خاکم بدہن" من قم " پکارنے لگے۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی تعلیم کے مطابق کمال تقویٰ اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتے دیکھو اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی گالیوں سے کیسے بچاتا ہے یہ کسی مدتم کو برا بھلا کہتے ہیں جبکہ ہمارا نام خدا نے محمد رکھا ہے"۔دوسری طرف منافقین اور یہود مدینہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی میں کوئی کمی نہ کی۔منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے وہ توہین آمیز گستاخانہ الفاظ کہنے کی جسارت کر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و حلم اور رافت و رحمت کے عدیم المثال نمونہ کے طور پر سورۃ منافقون میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیئے گئے کہ " (اور ) یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ اگر ہم اب مدینہ میں لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا ( خودسردار منافقین ) وہاں سے ذلّت والے کو باہر نکال دے گا۔" (سورۃ المنافقون 9 ترجمہ از مولوی اشرف علی تھانوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رئیس المنافقین کو نہ صرف کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس کی وفات