ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 376
376 پکار میں کہ وہ اپنی قدرت کے جلوے دکھائے۔جھوٹے خداؤں سے اس دنیا کو نجات ملے۔آج اگر یہ لوگ اپنی امارت اور طاقت کے گھمنڈ میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں تو ہماری دعاؤں کے تیروں سے انشاء اللہ تعالیٰ ان کے گھمنڈ ٹوٹیں گے۔پس اُس خدا کو پکار میں جو کائنات کا خدا ہے۔جورب العالمین ہے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ہے، تا کہ جلد تر اس واحد ولا شریک خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔مسلمان ملکوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے فروعی اختلافات کو ختم کریں، آپس کی لڑائیوں اور دشمنیوں کو ختم کریں۔ایک ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔اور ایسے عمل سے باز آ جائیں جن سے غیروں کو ان پر انگلی اٹھانے کی جرات ہو۔" پوپ کے نام مکتوب خطبات مسرور جلد 4 صفحه 459 477) سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسی الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 2011ء میں کیتھولک عیسائیوں کے عالمی، مذہبی رہنما محترم پوپ بینیڈکٹ xvi کے نام اپنے ایک مکتوب کا ذکر فرمایا جو امیر جماعت احمد یہ کہا بیر مکرم محمد شریف عودہ صاحب کے ذریعہ محترم پوپ صاحب کو ان کے ہاتھ میں دیا گیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔" ہمیں تو اس زمانہ کے امام نے اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے اور دشمن کا منہ دلائل سے بند کرنے کا فریضہ سونپا ہے اور اپنی اپنی بساط اور کوشش کے مطابق ہر احمدی اس کام کو سرانجام دے رہا ہے۔اور جہاں اسلام پر دشمنان اسلام کو حملہ آور دیکھتا ہے وہاں احمدی ہے جو دفاع بھی کرتا ہے اور منہ توڑ جواب بھی دیتا ہے۔دنیا کو سمجھاتا بھی ہے۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہی ملی ہوئی علم ومعرفت ہے جس کو ہم استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہر احمدی بغیر کسی احساس کمتری کے بڑے بڑے لیڈروں اور مذہبی سر براہوں کو بھی اسلام کا پیغام پہنچا رہا ہے۔دوسرے اگر لیڈروں کو ملنے جاتے ہیں تو مدد لینے جاتے ہیں یا دنیاوی مفادات لینے جاتے ہیں۔کبھی اسلام کا پیغام پہنچانے کی جرات نہیں کرتے۔ابھی گزشتہ دنوں ہمارے کہا بیر کے امیر صاحب کو ایک وفد کے ساتھ اٹلی جانے کا موقع ملا۔جانے سے پہلے انہوں نے مجھے بھی کہا کہ یہ جو وفد جا رہا ہے اس میں کیونکہ ہر مذہب کے لوگ انہوں نے رکھے ہیں اور ایک ایسی مذہبی تقریب پیدا ہو رہی ہے کہ پوپ سے بھی ملاقات ہوگی بلکہ پوپ کے بلانے پر جارہے ہیں۔اس لئے اگر مناسب سمجھیں تو آپ کی طرف سے اسے کوئی پیغام دے دوں اور قرآن کریم کا تحفہ بھی دے دوں۔تو میں نے انہیں کہا کہ بڑی اچھی بات ہے ضرور دیں۔چنانچہ انہیں میں نے یہاں سے اپنا پیغام لکھ کر بھجوایا کہ پوپ کو جاکے دے دیں۔اس کی انہوں نے کا پیاں بھی کروالیں اور وہاں جب وہ گئے ہیں تو پوپ کو بھی دیا اور ویٹیکن کے بڑے بڑے پادری جو