ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 375
375 ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ مکھی سے چیز واپس لے سکیں۔ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔نہ اس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے۔اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا۔کیونکہ اس کے پاس زبر دست دلائل ہوتے ہیں۔لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تاہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کام بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے اور فرمایا هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِيُّ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا ، رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آسکیں سب اُسی کے نام ہیں اور پھر فرمایا يُسَبِّحُ لَهُ مَـافِـي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَکیم یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند ، خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔اور پھر فرمایا علی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیر یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہواور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں۔اور پھر فرمایا رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ - أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ، رحمن ، رحیم اور جزاء کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا اَلْحَيُّ الْقَيُّوم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو، تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑ کا ر ہے گا، شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔" (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 372-376) ان حالات میں ایک احمدی کی ذمہ داری۔۔۔آخر میں میں ہر احمدی سے یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے خلاف جو محاذ کھڑے ہو رہے ہیں اُن سے ہم کامیابی سے صرف خدا کے حضور جھکتے ہوئے اور اس سے مدد طلب کرتے ہوئے گزر سکتے ہیں۔پس خدا کو پہلے سے بڑھ کر