ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 374
374 ہے۔اور پھر فرمایا ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو۔اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب کچھ جز اسزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔اس کو ضرورت تو کوئی نہیں۔وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔اس کو یہ ضرورت نہیں کہ خدا ان کی کونسل بنائے۔اور پھر وہ کونسل ان کی مدد کرے۔تو اگر عقل کی بات کا سوال ہے کہ اسلام کے خدا کا ایسا تصور ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔عقل تو اُن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتی کہ تین خدا بنائے ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جمہوری طور پر حکومت چلے گی، اگر ایک بھی ان میں سے راضی نہ ہو تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے۔فرماتے ہیں کہ "اور پھر فرمایا الْمَلِكُ القدوس یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔اگر مثلاً تمام رعیت جلاوطن ہوکر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی۔یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے۔اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو بحر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر اور دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا۔تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا۔اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں، بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں۔ماں کے دودھ کی طرح پیتے ہیں۔پس یہ اسلام کا خدا ہے جو ہر ظلم سے پاک ہے۔مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تو وہ کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہتا۔بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے۔پھر فرمایا السّلامُ یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے، اس کے معنے بھی ظاہر ہیں۔کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا،لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو اس کے بدنمونے کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ ط دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَّلَواجْتَمَعُوْا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الدُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ط ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ O مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيز ( ا ج :74-75) جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کرسکیں اگر چہ