ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 373
373 1950ء کے قریب کی پرانی بات ہے) عیسائیوں میں سے جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو ہلاک کیا ہو۔ساتویں صدی کے تاریکی کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہوں، عرب کے نبی کے ہاتھوں ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔جو قتل انکیوئز یشن (Inquisition) اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے اس کے بیان کی تو حاجت ہی نہیں جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ " ان مسلمان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں لت پت تھے۔"۔۔(Ruth Cranston 'World Faith', p: 155 Ayer publishing (1949) اسلام کا خدا اور حضرت مسیح موعود۔۔۔اگلا سوال جو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا خدا ایسا خدا ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔اسلام کا خدا تو ایسا خدا ہے جو اپنے وجود کو تسلیم کرانے کے لئے انسانوں کو عقل کی طرف بلاتا ہے۔اگر یہ تصور ہرا یک میں ہے کہ خدا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس کا مالک ہے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ تمام قدرتوں کا مالک ہے۔اسلام کے خدا کے نظریہ پر استہزاء اڑانے کی بجائے عقل اور تدبر کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفہ فطرت سے نظر آ رہا ہے۔اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے“۔( تبلیغ رسالت جلد 6 صفحہ 15) پھر فرمایا کہ عَالِمُ الْغَیب ہے۔یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سرا پا دیکھ سکتے ہیں۔مگر خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے۔یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو تو ڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا۔سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔پھر فرمایا هُوَ الرَّحْمنُ یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے، نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میتر کرتا ہے۔جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدا تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ الرجیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے۔اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم