ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 372 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 372

372 ہے وہ یہ ہے کہ ان کی رسالت لوگوں کے حق میں مفید ہوئی یا مضر؟ جو لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سخت دشمن ہیں وہ بھی اور عیسائی اور یہودی بھی محمد (صلی للہ علیہ وسلم) کو با وجود پیغمبر برحق نہ ماننے کے اس بات کو ضر ور تسلیم کریں گے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دعویٰ نبوت ایک نہایت مفید مسئلے کی تلقین کے لئے کیا تھا۔گو وہ یہ کہیں کہ صرف ہمارے ہی مذہب کا مسئلہ اس سے اچھا ہے۔گویا وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے ہمارے مذہب کے تمام دنیا کے اور مذاہب سے مذہب اسلام اچھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے خون کے کفارے کو نماز وروزہ و خیرات سے بدل دیا جو ایک پسندیدہ اور سیدھی سادی عبادت ہے۔یعنی جو انسان کی قربانی بتوں پر ہوتی تھی اس کو معدوم کر دیا۔آنحضرت نے مسلمانوں میں نیکی اور محبت کی ایک روح پھونک دی ، آپس میں بھلائی کرنے کی ہدایت کی اور اپنے احکام اور نصیحتوں سے انتقام کی خواہش اور بیوہ عورتوں اور یتیموں پر ظلم وستم کو روک دیا۔قومیں جو ایک دوسرے کی جانی دشمن تھیں وہ اعتقاد وفرمانبرداری میں متفق ہو گئیں اور خانگی جھگڑوں میں جو بہادری بیہودہ طور سےصرف ہوتی تھی وہ نہایت مستعدی سے غیر ملک کے دشمن کے مقابلے پر مائل ہوگئی۔" (Edward Gibbon'The History of the Decline and Fall of the Roman Empire' Vol۔V۔Page 231۔Penguins Classics (1st published 1788۔this edition 1996) پھر جان ڈیون پورٹ لکھتے ہیں اس بات کا خیال کرنا بہت بڑی غلطی ہے کہ قرآن میں جس عقیدے کی تلقین کی گئی ہے اس کی اشاعت بزور شمشیر ہوئی۔کیونکہ جن لوگوں کی طبیعتیں تعصب سے مبراء ہیں وہ بلا تامل اس بات کو تسلیم کریں گے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین جس کے ذریعہ سے انسانوں کی قربانی کے بدلے نماز اور خیرات جاری ہوئی اور جس نے عداوت اور دائمی جھگڑوں کی جگہ فیاضی اور حسن معاشرت کی ایک روح لوگوں میں پھونک دی۔وہ مشرقی دنیا کے لئے ایک حقیقی برکت تھا اور اسی وجہ سے خاص کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان خون ریز تدبیروں کی ضرورت نہ ہوئی جن کا استعمال بلا استثناء اور بلا امتیاز، حضرت موسی نے بت پرستی کے نیست و نابود کرنے کے لئے کیا تھا۔پس ایسے اعلیٰ وسیلہ کی نسبت جس کو قدرت نے بنی نوع انسان کے خیالات و مسائل پر مدت دراز تک اثر ڈالنے کے لئے پیدا کیا ہے گستاخانہ پیش آنا اور جاہلا نہ مذمت کرنا کیسی لغو بات ہے“ (John Devonport 'An Apology for Muhammad and the Quran۔1st published 1869)۔۔کافی حوالے ہیں لیکن میں مختصر کرتا ہوں۔World Faith"، Ruth Cranston" میں لکھتے ہیں کہ "محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ہر جنگ جو انہوں نے لڑکی مدافعانہ تھی۔وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اور ایسے اسلحہ اور طریق سے لڑے جو اس زمانے کا رواج تھا۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ ( یہ