ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 371 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 371

371 تو کر لو۔چنانچہ لڑکے نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک روح آگ کے عذاب سے بچ گئی۔( بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصمى ) اب اس قرآنی تعلیم سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی چند مثالوں سے جو میں نے بیان کی ہیں ظلم کی اور جو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اس کی حقیقت تو واضح ہوگئی۔یہ تو پتہ چل گیا کہ اسلام کس طرح پھیلا ہے۔اور شروع میں جو میں نے بتایا تھا کہ سپین میں کیا سلوک ہوا، اس سے ان لوگوں کی حقیقت بھی واضح ہوگئی۔انصاف پسند عیسائی مستشرقین کے نزدیک اسلام تلوار سے نہیں پھیلا انصاف پسند عیسائی مستشرقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔اس کی بھی میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں :۔"کارلائل صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہم لوگوں (یعنی عیسائیوں ) میں جو یہ بات مشہور ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک پرفن اور فطرتی شخص اور جھوٹے دعویدار نبوت تھے اور ان کا مذہب دیوانگی اور خام خیالی کا ایک تو وہ ہے۔اب یہ سب باتیں لوگوں کے نزدیک غلط ٹھہرتی جاتی ہیں۔جو جھوٹی باتیں متعصب عیسائیوں نے اس انسان ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت بنائی تھیں اب وہ الزام قطعاً ہماری روسیاہی کا باعث ہیں۔اور جو باتیں اس انسان (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی زبان سے نکالی تھیں، 1200 برس سے 18 کروڑ آدمیوں کے لئے بمنزلہ ہدایت کے قائم ہیں۔(اُس وقت 18 کروڑ تھے جب انہوں نے لکھا تھا)۔اس وقت جتنے آدمی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کلام پر اعتقادر کھتے ہیں اس سے بڑھ کر اور کسی کے کلام پر اس زمانے کے لوگ یقین نہیں رکھتے۔میرے نزدیک اس خیال سے بدتر اور ناخدا پرستی کا کوئی دوسرا خیال نہیں ہے کہ جھوٹے آدمی نے یہ مذہب پھیلایا۔(Thomas Carlyle, 'On Heros-Worship and the Heroic in History' Pages 43&44 U of Nebraska Press (1966) پھر سر ولیم میور ( یہ کافی متعصب بھی ہیں، بعض باتیں غلط بھی لکھی ہوئی ہیں) یہ بھی لکھتے ہیں کہ " ہم بلا تامل اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیشہ کے واسطے اکثر تو ہمات باطلہ کو جن کی تاریکی مدتوں سے جزیرہ نمائے عرب پر چھا رہی تھی کا لعدم کر دیا۔بلحاظ معاشرت کے بھی اسلام میں کچھ کم خوبیاں نہیں ہیں۔مذہب اسلام اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ اس میں پر ہیز گاری کا ایک ایسا درجہ موجود ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔" (Sir William Muir 'The Life of Muhammad' Vol۔IV۔Page 534۔Kessinger Publishing۔(1st published 1878, this edition 2003) پھر ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں " حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سیرت میں سب سے آخری بات جو غور کے لائق