ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 370 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 370

370 وسلم کا معاہدہ ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محاصل کی وصولی کے لئے اپنے صحابی عبداللہ بن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے۔آپ کی تعلیم کے ماتحت عبد اللہ بن رواحہ فصل کی بٹائی میں اس قدر نرمی سے کام لیتے تھے کہ فصل کے دو حصے کر کے یہودیوں کو اختیار دے دیتے تھے کہ ان حصوں میں سے جو حصہ تم پسند کرو لے لو اور پھر جو حصہ پیچھے رہ جاتا تھا وہ خود لے لیتے تھے۔(ابوداؤد کتاب البیوع باب في المساقاة حدیث نمبر 3410) جیسا کہ میں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور تعامل کے ماتحت حضرت عمرؓ کو اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا کے حقوق اور آرام کا بہت خیال تھا۔وہ اپنے گورنروں کو تاکید کرتے رہتے تھے کہ ذمیوں کا خاص خیال رکھیں اور خود بھی پوچھتے رہتے تھے کہ تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ذمیوں کا ایک وفد حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش ہوا تو حضرت عمرؓ نے ان سے پہلا سوال یہی کیا کہ مسلمانوں کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے مسلمانوں کی طرف سے حسنِ وفا اور حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔غیر مسلموں سے حسن سلوک (طبری جلد 5 صفحه 2560) جب شام فتح ہوا تو مسلمانوں نے شام کی عیسائی آبادی سے ٹیکس وصول کیا لیکن اس کے تھوڑے عرصے بعد رومی سلطنت کی طرف سے پھر جنگ کا اندیشہ پیدا ہو گیا جس پر شام کے اسلامی امیر حضرت ابو عبیدہ نے تمام وصول شدہ ٹیکس عیسائی آبادی کو واپس کر دیا اور کہا کہ جنگ کی وجہ سے جب ہم تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے جائز نہیں کہ یہ ٹیکس اپنے پاس رکھیں۔عیسائیوں نے یہ دیکھ کر بے اختیار مسلمانوں کو دعادی اور کہا خدا کرے تم رومیوں پر فتح پاؤ اور پھر اس ملک کے حاکم بنو۔(کتاب الخراج ابو یوسف صفحہ 80-82، فتوح البلدان بلاذری صفحہ 146) مسلمانوں کا یہ سلوک تھا۔چنانچہ جب دوبارہ فتح ہوئی اور مسلمان پھر واپس آئے تو پھر اسی طرح ٹیکس وصول ہونا شروع ہو گیا۔اب یہ بتائیں کہ کیا اس کو ز بر دستی کہتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر الزام لگانے والے اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں، تاریخ پڑھیں تو ان کو نظر آئے گا کہ آپ غیر مسلموں کا کتنا در درکھتے تھے۔اسلام کی دعوت دیتے تھے تو پیار اور نرمی کے ساتھ کہ اس شخص کی جان کے لئے فائدہ ہے۔ایک روایت میں ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنے غلبہ اور حکومت کے زمانے میں بھی غیر مسلموں کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مدینے میں ایک یہودی نوجوان بیمار ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔اور اس کی حالت کو نازک پا کر آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔وہ آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوا مگر چونکہ اس کا باپ زندہ تھا اور اس وقت پاس ہی کھڑا تھا وہ ایک سوالیہ شکل بنا کے اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔باپ نے بیٹے سے کہا کہ اگر تم قبول کرنا چاہتے ہو