ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 369
369 گر رہے تھے جیسے درانتی کے سامنے گھاس کہتا ہے، اُس وقت عکرمہ ساتھیوں کو لے کر عین قلب لشکر میں جا گھسے۔بعض لوگوں نے منع کیا کہ اس وقت لڑائی کی حالت سخت خطر ناک ہو رہی ہے اور اس طرح دشمن کی فوج میں گھسنا ٹھیک نہیں ہے۔لیکن عکرمہ نہیں مانے اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے کہ میں لات اور عزی کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ہوں۔آج خدا کے رستہ میں لڑتے ہوئے پیچھے نہیں رہوں گا۔اور جب لڑائی کے خاتمہ پر دیکھا گیا تو ان کی لاش نیزوں اور تلوار کے زخموں سے چھلنی تھی۔ان کی مالی قربانی کے بارہ میں آتا ہے کہ غنیمت کا جتنا مال عکرمہ کو ملتا تھا وہ صدقہ دے دیا کرتے تھے۔خدمت دین میں بے دریغ خرچ کرتے تھے۔تو یہ تبدیلیاں جو دلوں میں پیدا ہوتی ہیں یہ تلوار کے زور سے پیدا نہیں ہوتیں۔(اصابه واسد الغابه واستیعاب) غیر مسلموں کا الزام ہے کہ زبر دستی مذہب تبدیل کرتے تھے۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جوان باتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ہم دیکھ ہی آئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا تھی۔ایک واقعہ کا ذکر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ۔یعنی جو مسلمان کسی ایسے غیر مسلم کے قتل کا مرتکب ہو گا جو کسی لفظی یا عملی معاہدہ کے نتیجہ میں اسلامی حکومت میں داخل ہو چکا ہے وہ علاوہ اس دنیا کی سزا کے، قیامت کے دن بھی جنت کی ہوا سے محروم رہے گا۔خلفاء کا طریق پھر آپ کے خلفاء کا کیا طریق تھا۔روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنے میں سختی کی جارہی تھی۔یہ دیکھ کر حضرت عمر فور ارک گئے اور غصہ کی حالت میں دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے۔عرض کیا گیا کہ یہ لوگ جزیہ ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے، انہیں چھوڑ دو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے عذاب کے نیچے ہو گا۔چنانچہ ان لوگوں کو جزیہ معاف کر دیا گیا۔(كتاب الخراج فضل في من تجب عليه الجزية ) حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی ارشادات کے ماتحت اپنی غیر مسلم رعایا کا اس قدر خیال تھا کہ انہوں نے فوت ہوتے وقت خاص طور پر ایک وصیت کی جس کے الفاظ یہ تھے کہ میں اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا سے بہت نرمی اور شفقت کا معاملہ کرے، ان کے معاہدات کو پورا کرے، ان کی حفاظت کرے، ان کے لئے ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان پر قطعاً کوئی ایسا بوجھ یا ذمہ داری نہ ڈالے جوان کی طاقت سے زیادہ ہو۔(کتاب الخراج صفحه (72) اگر ز بر دستی مسلمان کیا جاتا تو پھر یہ صورت کیوں ہوتی۔پھر خیبر کے یہودیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ