ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 358 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 358

358 صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد شامل ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد ہے جنہوں نے اپنی معذرت کا اظہار کیا ہے۔گو اس کے مقابلے پہ دوسرے گروپ بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ایک صاحب نے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ڈنمارک کہاں ہے؟ ایک طرف تو ہم عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی مدد کے نام پر فوج بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔پھر ایک نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ Moral اچھی بات ہے لیکن ڈبل Moral یقیناً اور بھی اچھا ہونا چاہئے۔پھر لکھتے ہیں کہ: میں ان دنوں اپنے ڈینش ہونے پر شرمندہ ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اکثریت جواس گروپ میں ہے وہ میری طرح جذبات رکھتے ہیں۔پھر ایک نے لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ ڈینیٹش جرنلسٹ آزادی رائے کے صحیح مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سے کاغذ، قلم اور دوات کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ایک نے لکھا کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ آزادی اظہار کا غلط استعمال ہے۔سب سے زیادہ شائع ہونے والے ایک اخبار ایولین ڈی کے Avisen DK) نے اپنی اشاعت 25 فروری میں ایک صاحب کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ مجھے محمد کے کارٹون کے مسئلہ پر اظہار کی اجازت دیجئے۔میرے خیال میں یہ ایک وحشیانہ اور خبیثانہ حرکت ہے کہ اپنے کسی ہمسائے کے کارٹون بنا کر اپنے گھر کے سامنے لٹکائے جائیں جہاں وہ اسے دیکھ بھی سکتا ہو اور پھر منافقانہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا جائے کہ میں اپنے ہمسائے سے اچھا ہوں کیونکہ میں اس سے اپنے ہمسایہ کے طور پر محبت کرتا ہوں۔پھر ایک تبصرہ ہے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ دینے کی بات ہمیشہ بری ہے۔اگر اسلام کے بارے میں کوئی تنقیدی بات کی جائے تو یہ تو بجا ہے مگر اس طرح خاکوں کی اشاعت تو محض کسی کو دکھ دینا ہے۔پھر Kristelig Dagblad ایک مذہبی اخبار میں ایک ڈینش کا تبصرہ شائع ہوا ہے کہ آزادی ضمیر کو خطرہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ پریس منسٹرز اور سیاستدانوں کی طرف سے ہے کیونکہ وہ اس کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں کو آزادی رائے کا حق دینے کو تیار نہیں۔پھر ایک صاحب جو عیسائی کمیونٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر ہیں، انہوں نے بائبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کارٹون کی اشاعت عیسائیت کی تعلیم کے بھی سراسر منافی ہے۔نیز لکھا کہ: ایسی حرکات کو محض حماقت کے نام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ڈینش محاورہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کوئی عہدہ دیتا ہے تو اس کو عقل بھی دیتا ہے۔یہ لکھنے کے بعد کہتے ہیں: اس قسم کی حرکات کو دیکھ کر اہل حل و عقد میں عقل کی کمی نظر آتی ہے۔