ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 359
359 اسلام مخالف مہم میں شرفاء شامل نہیں اس طرح کے بے شمار تبصرے ہیں جو انہوں نے کئے۔یہ جو اسلام کے خلاف مہم ہے اس میں جیسا کہ ان تراشوں سے پتہ چلتا ہے بہت سے شرفاء شامل نہیں۔یہ ایک بہت بڑی مہم ہے اس میں صرف ایک آدھ کا رٹونسٹ یا چند ممبر پارلیمنٹ یا سیاسی لیڈر بنے کا شوق رکھنے والوں کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش ہے اور اس کے پیچھے بڑی طاقتیں ہیں جو اسلام کی تعلیم سے خوفزدہ ہیں۔جو اپنے عوام کو یہ سمجھنے ہی نہیں دینا چاہتیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔جو مذہب کے نام پر اصل میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتی ہیں۔جو اسلام سے پندرہ سو سال پرانی دشمنی کا اظہار بڑے منصوبے سے کر رہی ہیں۔جو عاجز بندے کو خدا کے مقابلے پر کھڑا کر کے شرک کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔اور اسی وجہ سے پھر دباؤ ڈالا گیا۔ہمارا جو عربی چینل بند کیا گیا تھا، اس کے پیچھے عیسائیوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا جنہوں نے بڑی حکومتوں کے ذریعہ سے دباؤ ڈلوایا تھا۔تو ایسے جو لوگ ہیں وہ بھلا اسلام کی شرک سے پاک تعلیم اور عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم کو کس طرح پہنچنے دے سکتے ہیں۔جبکہ یہ لوگ چاہے وہ مذہب کی آڑ میں کریں یا سیاست کی آڑ میں کریں، آجکل دنیا کلالہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا معبود بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا مالک بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا رب بنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس یہ بڑے دماغ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔جنہیں خطرہ ہے کہ اسلام اگر پھیل گیا تو دوسرے مذاہب کی حیثیت معمولی رہ جائے گی۔لیکن یہ ان کی سوچیں ہیں، جو چاہیں کر لیں۔اسلام کا مقدر تو اب پھیلنا ہے اور انشاء اللہ اس نے پھیلنا ہے لیکن نہ کسی قسم کی دہشت گردی سے، نہ کسی قسم کی عسکریت سے بلکہ مسیح و مہدی کے ذریعہ سے، اس پیغام کے ذریعہ سے جو قرآن کریم میں پیار و محبت پھیلانے کیلئے دیا گیا ہے اور دین فطرت کے اظہار کے ذریعہ سے۔پس چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔یہ اخبار جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا ان کے ممبر پارلیمنٹ جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا حکومتیں جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا دوسرے مذاہب کے جو رہنما ہیں وہ بھی جتنی چاہے کوششیں کرلیں، اللہ تعالیٰ نے جو مقدر کر دیا ہے وہ اب رک نہیں سکتا۔" خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 86 تا 90) خطبہ جمعہ 14 مارچ 2008ء ہمارے امام ہمام خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد پیارا اور محبت ہے کہ آپ اپنے آقا کی ہتک کو برداشت ہی نہ کر پائے اور اپنے خطبات اور تقاریر میں بار بار اس فعل قبیح کا ذکر فرما کر جہاں احتجاج فرمایا۔اور اس کو اس شیح فعل پر عذاب الہی کی وعید سنائی وہاں اسلام، قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات،فرمودات کا کھلے عام چر چا فرمایا۔