ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 357 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 357

357 رہا تھا کہ یہ تھوڑے عرصہ میں ہمارے شہر پر قابض ہو جائیں گے۔مکہ کی وجہ سے ان کی جو انفرادیت تھی وہ ختم ہو جائے گی۔یہ تو ہماری نسلوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیں گے۔پھر اسلام کا پیغام مزید پھیلا۔اس خوف کی وجہ سے مخالفت بھی شروع ہوئی۔ہجرت کرنی پڑی۔اسلام کا پیغام مزید دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ گئے وہاں پیغام پھیلا تو یہودیوں نے اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا کہ ہماری تو نسلیں بھی اب ان کی لپیٹ میں آتی چلی جائیں گی۔پھر مزید وسعت ہوئی تو قیصر و کسریٰ کی حکومتیں بھی پریشان ہونے لگیں۔وہ بھی سب اسلام کے خلاف صف آراء ہو گئیں۔اور آج تمام دنیا کے مذاہب کے سر کردہ اس خوف سے کہ کہیں اسلام غلبہ حاصل نہ کر لے اسلام کے خلاف ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کہ خود ان کے اندر رہنے والے اپنے شریف الطبع لوگوں نے ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف آوازیں اٹھانی شروع کر دی ہیں۔یورپ میں کارٹونوں کے بارے ملا جلا رجحان ہم یورپ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو یورپ میں بسنے والے ہر شخص کی آواز سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ صورتحال نہیں ہے۔ہر یورپین اسلام کے خلاف نہیں ہے۔لیکن ہمارا رد عمل بہت سخت ہوتا ہے۔ان میں بھی ایسی تعداد ہے اور خاصی تعداد ہے جو ایسی حرکتوں کو پسند نہیں کرتی۔مثلاً گزشتہ دنوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر حملے کئے گئے تھے اس کے خلاف ڈنمارک میں ہی وہاں کے مقامی غیر مسلموں نے آواز اٹھائی کہ یہ سب غیر اخلاقی اور انتہائی گری ہوئی حرکتیں ہیں جو کی جا رہی ہیں۔انہوں نے اسی سوال کو اٹھایا جو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب قاتل پکڑے گئے تو پھر کارٹونوں کی اشاعت کا کیا مطلب تھا؟ اور پھر یہ کہ بغیر مقدمہ چلائے دوکو ملک بدر کرنے ، ملک سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ایک کو بری کر دیا۔یہ کون سا انصاف ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ اندر کوئی بات تھی ہی نہیں۔بہر حال ان میں سے آواز میں اٹھ رہی ہیں مثلاٹی وی چینلز نے ہمارے مشنریز کے انٹرویوز لئے اور اس پر اپنا اظہار بھی کیا۔مثلاً ایک ڈینش خاتون جوٹی وی کے انٹرویو کے وقت مشن ہاؤس میں موجود تھیں ، انہوں نے ٹی وی جرنلسٹ کے سامنے کھل کر کارٹونوں کی اشاعت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے پہلے وہ بیرون ملک وزٹ کے دوران بڑے فخر اور خوشی سے بتایا کرتی تھیں کہ وہ ڈینش ہیں مگر اب وہ اپنے آپ کو ڈینیش بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گی۔میں نے یہ رپورٹ وہاں سے منگوائی تھی۔انہوں نے لکھا ہے کہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے نتیجے میں بالعموم ڈینش عوام میں ایک مثبت سوچ بیدار ہو رہی ہے اور اس بات کا بر ملا اظہار کرتے ہیں کہ کارٹونوں کی اشاعت محض پر دو وکیشن (Provocation) ہے۔اخبارات اور انٹرنیٹ میں اگر چہ مثبت اور منفی ملے جلے جذبات کا اظہار ہے تا ہم انٹرنیٹ پر ایک مشہور گروپ ہے جس کا نام فیس بک (Face Book) ہے۔انہوں نے Sorry Muhammad کے نام سے آنحضرت