ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 16 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 16

16 سے لے کر 1903 ء کے بعد تک بڑے زور شور سے قائم رہا۔بے کار مسلمان مسیحی ہو کر روزگار حاصل کر لیتے تھے۔قلاش مسلمان مالی لحاظ سے بہتر حالت میں ہو جاتے تھے اور غداری کا داغ جو ان کے لئے بے حد پریشان کن تھا۔وہ بپتسمہ کے پانی کے ساتھ ان کی پیشانی سے دھل جا تا تھا۔یہ ترغیبات کچھ معمولی نہ تھیں۔زر، حکومت اور ثروت کی ترغیب سے اگر کسی اور دین کا واسطہ پڑتا تو مٹ جاتا۔یہ اسلام ہی کا کام تھا کہ وہ اس بے پناہ حملہ سے محفوظ رہا۔۔۔مسلمانوں کو بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلام اور اس کے بانی صلی اللہ علیہ وسلم پر بے پناہ حملے شروع کر دیئے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔آخر زمانہ نے تین آدمی ان کے مقابلہ کے لئے پیدا کئے۔ہندوؤں میں سے سوامی شری دیانند جی مہاراج نے جنم لے کر آریہ دھرم کی بنیاد ڈالی اور عیسائی حملہ آوروں کا مقابلہ شروع کیا مسلمانوں میں سرسید علیہ الرحمہ نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں اُترے۔۔مذہبی حملوں کا جواب دینے میں البتہ سرسید کا میاب نہیں ہوئے۔اس لئے کہ انہوں نے ہر مجزے سے انکار کیا اور ہر مسئلہ کو بزعم خود عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں بچے بھیجے جو علماء بھی موجود تھے ان میں اور سرسید میں ٹھن گئی۔کفر کے فتوے شائع ہوئے اور بہت غلاظت اچھلی۔نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی پرو پیگنڈہ زور پکڑ گیا اور علی گڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے ملحد پیدا کرنے لگا۔یہ لوگ محض اتفاقی پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے ورنہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہوتا تھا۔اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔اکے دُکھے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے۔وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اُترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔میں مرزا صاحب کے ادعائے نبوت وغیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں لیکن بقولیکہ مے عیب وی جملہ بلفتی ہنرش نیز بگو۔مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لا جواب ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے۔لیکن افسوس ہے کہ جس کی ابتداء اچھی تھی انتہاءوہ نہ رہی جو ہونا چاہئے تھی۔تحریک قادیان صفحه 207-210) لالہ شرمیت کے ناروا خیال پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت آریہ سماج قادیان کے سیکرٹری لالہ شرمیت جو شدت عناد کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور پیشگوئیوں کے سخت منکر تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے خود بنالی ہیں ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا اور ان میں علامات نبوت تو موجود ہی نہیں تھیں۔