ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 15 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 15

15 فتنہ سامانیوں کا بھی اضافہ ہو گیا۔اور نہتے اور بے کس مسلمان بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فتنوں سے گھر گئے اور دوسرے کئی مسلمانوں کی طرح بہادر شاہ ظفر جیسے بادشاہ بھی ہندوؤں کے آلہ کار بن گئے۔اس تحریک کے دوران جب کئی ایک مقامات پر محمدی جھنڈا ہندوؤں کے خلاف جہاد کے لئے لہرایا گیا تو بادشاہ نے ان کو یہ سمجھا کر اس جھنڈے کو اکھڑ وادیا کہ سارے تلنگے (سپاہی) ہندو ہیں ان سے بچارے مسلمان کیا لڑیں گے۔تاریخ عروج عہد سلطنت انگلشیہ ہند صفحہ 660 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 152-153) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شاندار اسلامی خدمات کا اعتراف یہ دور ایسا دور تھا جب ہر مذہب دوسرے پر حملہ کرنے میں مصروف تھا۔آریہ سماج کی پے درپے ناکامیوں سے بھی دوسرے ہندوؤں نے سبق نہ سیکھا اور برہمو سماج والوں نے اسلام پر حملے شروع کر دیئے۔جن کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واشگاف الفاظ میں دیا اور اسلام کی صداقت ثابت کی۔جس کا اعتراف برہمو سماج والوں نے بھی کیا۔اس دور کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اسلامی خدمات، عیسائیت، آریہ سماج اور برہمو سماج کے ابطال میں اتنی بلند پایہ، رفیع القدر اور شاندار تھیں کہ آج تک غیر از جماعت مسلم لیڈر بھی ان کا کھلا اعتراف کر رہے تھے۔مثلاً سید حبیب احمد صاحب سابق مدیر "سیاست" اپنی کتاب " تحریک قادیان " میں لکھتے ہیں۔غدر 1857ء کی تمام ذمہ داری بے جا طور پر مسلمانوں کے سر منڈھ دی گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ارباب حکومت کے دلوں میں مسلمانوں کی طرف سے بغض پیدا ہو گیا۔ادھر مسلمانوں کے علماء نے حکومت انگلشیہ سے ہر قسم کے تعاون کو گناہ قرار دے کر اعلان کر دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔نیز بین الاقوامی معاملات نے بھی ایسی صورت اختیار کر لی کہ مسلمانوں اور انگریزوں کے تعلقات اچھے نہ رہے۔مسلمانوں نے علماء کے فتاویٰ کے باعث انگریزی مدارس سے جو تعلیم کی روشنی کو واپس لانے والے تھے ، اجتناب کیا۔مساجد اُجڑی پڑی تھیں۔مکاتب کا نشان مٹ چکا تھا۔صوفیاء کے تکیے حدیث شریف و قرآن مجید کے مسائل کی جگہ بھنگ نواز دوستوں کی گپ بازی کا مرکز بن چکے تھے۔غرض حالت یہ تھی کہ مسلمان حکام وقت کا چور بنا ہوا تھا۔حکومت اس کے ہاتھوں سے چھن چکی تھی۔تجارت سے اس کو دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔تعلیم اس کے ہاں سے غائب ہو چکی تھی۔اور جاہل ماں باپ، جاہل تر اولاد پیدا کر رہے تھے۔بے کاری، مفلسی اور حکومت کے عتاب نے مسلمانوں کو ایک قابل نفرت چیز بنادیا تھا۔مسیحی پادری ہمیشہ تسلیم کرتے رہتے ہیں کہ دنیا میں ان کے عقائد کے لئے اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو اس کا نام اسلام ہے۔وہ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو بہکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔انہوں نے اس وقت کو غنیمت اور اس موقع کو بے حد مناسب جان کر مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ایک عالمگیر جد و جہد شروع کی جس کا سلسلہ 1860ء