ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 356 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 356

356 چھپا ہوا تھا اس لئے غلطی کا امکان ہے۔بہر حال وہ خاتون پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور اسی پیشے کی وجہ سے وہ افغانستان گئیں۔وہاں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔بہر حال برقعہ پہن کر بھیس بدل کر وہاں گئیں۔کچھ عرصہ کام کیا ، پکڑی گئیں ، آخر اس وعدے پر رہا ہوئیں کہ قرآن کریم پڑھیں گی۔یہاں واپس آ گئیں ، بھول گئیں لیکن پھر جو اسلام کے خلاف یہاں مہم شروع ہوئی ، اس نے ان کو یاد کرایا کہ میں نے طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ قرآن کریم پڑھوں گی۔خیر اس خاتون نے قرآن کریم خریدا اور اس کو پڑھا اور اسے اس بات سے سخت دھچکا لگا کہ عورتوں سے سلوک کے بارے میں قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس میں، اور جو طالبان یا وہ لوگ جو اپنے آپ کو بہت اسلام پسند ظاہر کرتے ہیں ان کا عورتوں کے بارے میں جو سلوک ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔بہر حال قرآن کریم کو پڑھ کر ، اس تعلیم کو پڑھ کر یہ مسلمان ہوگئیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے جب ان کو بڑا اچھالا گیا تو ایک مسلمان ملک شاید قطر کے ایک میڈیا کے مالک نے ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔یہ یورپ کی پلی بڑھی تھیں، دنیاوی تعلیم بھی تھی تو انہوں نے جرنلزم میں، اپنی صحافت کے پیشے میں وہاں یہ پالیسی رکھی کہ حق کو حق کہنا ہے اور سچائی کو ظاہر کرنا ہے۔کوئی بڑے سے بڑا بھی ہو تو اس کے خلاف حق بولنے سے نہیں رکنا۔اس بات سے مالکان اور ان کے درمیان اختلاف ہو گیا اور ان کو فارغ کیا گیا۔لیکن انہوں نے وہیں ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا اور اپنے حق کے لئے لڑیں کہ عورت کے یہ یہ حقوق ہیں اور انصاف کا یہ یہ تقاضا ہے۔آخر وہ مقدمہ جیت گئیں۔پھر ایک اور جگہ ملازم ہوئیں۔وہاں سے بھی اسی بات پر نکالا گیا۔وہاں بھی کیس لڑا۔مقدمہ جیت گئیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان عورت کے جو حقوق ہیں اور ایک مسلمان کے جو حقوق ہیں، مسلمان حکومت کو اس کو ادا کرنا چاہئے۔بہر حال یہ کیس وہ جیتی رہیں اور اس بات پر ان کا ایمان جو بھی تھا، مزید مضبوط ہوتا رہا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھ کر اس خاتون کا قرآن کریم پر ایمان بڑھا، باوجود اس کے کہ جو بہت سارے تجربات ان کے سامنے آئے وہ اس کے بالکل خلاف تھے۔لیکن انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو بُرا نہیں کہا۔ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا جو اس تعلیم کے خلاف جارہے تھے۔اس طرح کی مثالیں جب اسلام مخالف طبقے کے سامنے آتی ہیں تو ان کو فکر ہوتی ہے۔اپنے مذہب سے انہیں لگاؤ ہو یا نہ ہولیکن اسلام سے دشمنی انہیں ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔انبیاء کی جماعتوں سے اسی طرح ہوتا ہے اور اسلام کیونکہ عالمی مذہب ہے اس لئے سب سے بڑھ کر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔مکہ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگ تھے تو کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔پھر جب قرآن کریم کی تعلیم نے ان میں سے سعید روحوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو پھر انہیں فکر پڑنی شروع ہوئی ، پھر مخالفت شروع ہوئی۔وہی عمر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے در پہ تھے وہی عمر قرآن کریم کی ایک آیت سن کر ہی اس قدر گھائل ہوئے کہ اپنا سر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ مقام عطا فر مایا کہ خلفاء راشدین میں سے دوسرے خلیفہ ہوئے۔پس یہ چیزیں دیکھ کر کفار کی مخالفت بجا تھی۔ان کو بھی نظر آ