ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 355 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 355

355 "مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے ان کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ میں ان کو یاد کرتے ہیں۔آپ یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں کیونکہ وہ ان کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔" مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت صفحه (14) خطبہ جمعہ 29 فروری 2008ء (خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 72-73) مورخہ 29 فروری 2008ء کو بیت الفتوح لندن میں حضور نے ایک بار پھر حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تصاویر کی ناپاک جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔مسلمانوں کے عمل دیکھ کر لوگوں میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے دوبارہ کھل کر اسلام پر حملے کئے جارہے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر حملے کئے جارہے ہیں۔قرآن کریم پر ، اس کی تعلیم پر حملے کئے جارہے ہیں۔کوشش یہ ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے۔وجہ کیا ہے؟ کیوں بدنام کیا جائے؟ اس لئے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو زمانے کی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھ کر لوگوں کا رخ اسلام کی طرف ہو رہا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض جگہ بعض مسلمانوں کے عمل دیکھ کر لوگوں میں نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں لیکن یہ جو اسلام مخالف مہم شروع ہوئی ہے یا کوششیں ہو رہی ہیں، یہ کوششیں مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کو اسلام کی تعلیم دیکھنے اور سمجھنے کی طرف بھی مائل کر رہی ہیں، اس تعلیم کو جو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اتاری ہے۔یہ تعلیم حقیقت پسندانہ اور فطرت کے مطابق ہے۔ایسے لوگوں نے جو مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں جو خالی الذہن ہوتے ہیں، انہوں نے قرآن کریم کو پڑھ کر اس پر غور بھی کیا ہے۔گو کہ صرف ترجمہ سے اس کی گہرائی کا علم نہیں ہوتا۔ان پیغاموں کا پتہ نہیں چلتا جو قرآن کریم میں ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کی کوشش ہوتی ہے۔بعض جو سعید فطرت ہیں ان کو سمجھ بھی آجاتی ہے۔رڈلی کا قرآن پڑھ کر اسلام کے حق میں آواز بلند کرنا گزشتہ دنوں اخبار میں ایک کالم تھا یہاں کی ایک خاتون ہیں رڈلی۔اگر کوئی نام میں غلطی ہو تو کیونکہ یہ اردو میں