ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 354
354 کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" دوسری بات، یہ افسوسناک خبر بھی ہر احمدی کے علم میں ہے جو ہمارے دلوں کو زخمی کرنے والی بھی ہے۔اکثر نے سنی ہوگی ، اخباروں میں بھی پڑھی ہوگی۔ڈنمارک کی اخبار نے ایک ظالمانہ اور گھٹیا سوچ کا پھر مظاہرہ کیا ہے۔اپنے دل کا گندا اور اندرونی کینے اور بغض کا پھر اظہار کیا ہے اور بہانہ یہ کیا کہ ہم یہ بدلے لے رہے ہیں کہ پولیس نے ان تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو ایک کارٹون بنانے والے کو مارنا چاہتے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے جو عجیب شکلیں بنائی تھیں۔جب پولیس نے پکڑ لیا ہے، اگر یہ الزام صحیح ہے تو پھر قانون سزادے رہا ہے۔پھر ان کا کیا جواز ہے کہ باقی مسلمان امت کا بھی دل دکھا ئیں، دوسرے مسلمانوں کا بھی دل دکھا ئیں؟ کہتے ہیں کہ ہم بڑے انصاف کے علمبر دار ہیں۔کیا یہ انصاف ہے کہ جرم کوئی کرے اور سزا دوسروں کو دی جائے؟ اگر ان کا یہی انصاف ہے تو پھر ایک منصف احکم الحاکمین آسمان پر بھی بیٹھا ہے جو اس کا ئنات کا مالک ہے۔وہ بھی پھر اپنا انصاف کرے گا جو غالب بھی ہے، ذو انتقام بھی ہے۔یہ ایک اصولی بات اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے کہ جو بار بار ایک جرم کرنے والے ہوں اور باز نہ آتے ہوں پھر وہ ان سے انتقام بھی لے سکتا ہے۔۔ان کے لئے جو اس قسم کے گھناؤنے فعل کرنے والے ہیں، غلط حرکات کرنے والے ہیں ان کے لئے تو وہ کافی ہے۔کس طرح اس نے پکڑنا ہے وہ خدا بہتر جانتا ہے۔ہمارا کام انہیں سمجھانا تھا۔اتمام حجت کرنا تھی جو ہم نے کر دی اور خوب اچھی طرح کر دی۔مضمون بھی لکھے۔اخباروں میں خط بھی لکھے، ان لوگوں کو ملے بھی۔ان سے میٹنگز بھی کیں۔تب بھی اگر ان لوگوں نے باز نہیں آنا تو ہمیں اب معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑنا چاہئے۔ہمارا کام یہ ہے کہ خدا کے آگے جھکیں اور پہلے سے بڑھ کر اس رسول کے پاک اسوہ کو قائم کرنے کی اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا۔ہمارا ایک مولیٰ ہے وہ مولیٰ جس کی پہچان ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کروائی ہے۔وہ مولیٰ جس کو سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیارے ہیں۔وہ سب قدرتوں والا ہے۔وہ خود اپنی قدرت دکھائے گا انشاءاللہ۔ہمارا کام اپنے دل کے زخم اس کے حضور پیش کرنا ہے۔اس کے آگے گڑ گڑانا ہے، اس کے آگے جھکنا ہے۔پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے۔اور یہ ہمیں پہلے سے بڑھ کر کرنا چاہئے اور ہر احمدی کی اب مزید ذمہ داری بڑھ جاتی ہے لیکن جب ایسے حالات پیدا ہوں تو پہلے سے بڑھ کر اس پر قائم ہو جائیں۔پہلے سے بڑھ کر دعاؤں کی طرف توجہ دیں، پہلے سے بڑھ کر اپنا تزکیہ نفس کرنے کی کوشش کریں۔پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور یہی چیزیں ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نا کا می دکھانے والی بنیں گی اور ہماری فتح ہوگی۔اپنے جذبات کے اظہار کے لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :