ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 352
352 ان دنوں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں یہ پیغام ہے " محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں" الفضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006ء) اس پریس ریلیز اور TV انٹرویو کی وجہ سے میڈیا کا رخ ایک بار پھر جماعت احمدیہ کی طرف ہوا اور متعدد اخبارات اور رسائل نے انٹرویو لیے اور شائع کیے۔جیسے اخبار Barlingske نے 16 فروری 2006ء کوایک انٹر ویو کا پورا متن شائع کر کے مکرم نعمت اللہ بشارت صاحب کے بارے لکھا کہ :۔میدان اماموں میں سے ہیں جس کی آواز ان ہنگاموں میں سنی نہیں گئی لیکن اب وہ سامنے آکر اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کو اپنی زندگیوں میں ڈھال کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ہم سب انسان ہیں اور ہمیں انسانیت کے شرف کو قائم کرنا ہے کیونکہ انسانیت مذہب سے پہلے آتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام کو ان کارٹونوں سے تکلیف نہیں پہنچی بلکہ ان کا دل کارٹونوں کے زخم سے چور ہے بلکہ اس تکلیف نے انہیں اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان کارٹونوں کے بارے میں ایک مضمون لکھیں۔" ( افضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006 ء) مکرم عبد السلام میڈسن کے انٹرویو کی اخبار میں اشاعت ممتاز احمدی سکالر اور ڈینش زبان میں قرآن کریم کے مترجم مکرم عبد السلام میڈسن صاحب کا ایک انٹر ویو اخبار VENSTER BTADET 16 فروری 2006ء کی اشاعت میں فرنٹ پیج پر شائع ہوا۔جس میں آپ نے کہا کہ جھنڈے جلانا، سفارت خانوں کو آگ لگا نائر اعمل ہے اور قرآنی تعلیم کے مطابق بُرائی کو اچھی چیز سے ختم کرنا چاہیے۔اخبار نے آپ کے انٹرویو کا حصہ یوں شائع کیا۔میڈلین صاحب کے بیان کے مطابق قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصاویر نہیں بنا سکتے لیکن اس کے برخلاف بائبل میں آتا ہے کہ خدا کی تصویر نہیں بنا سکتے۔مسلمانوں کے عقیدہ میں پایا جاتا ہے کہ نبیوں کی تصاویر نہ بنائی جائیں۔کیونکہ اس طرح وہ کہیں شرک کا موجب نہ بن جائیں۔پرانے زمانوں میں مسلمانوں کی تصاویر بنائی گئیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو نور سے منور دکھایا گیا ہے۔میڈسن صاحب کو بھی اس امر کی بہت تکلیف ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر تصویر بنانی ہی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کے بارے میں بڑی تفصیل سے ملتا ہے کہ ان کا حلیہ مبارک کیسا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کارٹون بنا کر اور پگڑی میں بم رکھ دینا یہ ایک گندی بچگانہ حرکت ہے۔ڈنمارک میں قانون توہین موجود ہے۔پہلے میرے خیال میں اس کی ضرورت نہ تھی مگر اب میرے خیال میں فساد کوروکنے کے لئے اس قانون کو اپلائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فسادنہ ہو۔باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین تو خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ خود ہی اس کی سزادے گا۔" الفضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006ء)