ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 351 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 351

351 پہلے ہو جاتی تو وہ ہرگز کارٹون نہ بناتے۔اب انہیں پتہ چلا ہے کہ اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم کیا ہے۔نیز صدر یونین نے ایک پریس ریلیز جاری کی۔جس کا مسودہ تمام حاضرین کو پڑھ کر سنایا گیا اور ان الفاظ میں معذرت بھی کی " ہم ان توہین آمیز خاکوں کو CONDEMN کرتے ہیں اور اس امر پر اتفاق کرتے ہیں کہ امن قائم کرنے کے لئے ان میٹنگز کو جاری رکھا جائے۔" (الفضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006ء) TV پرانٹرویو 2 دسمبر کو 2 TV کے نمائندگان نے مشن ہاؤس آکر مکرم نعمت اللہ بشارت صاحب کا انٹرو یولیا جس میں خاکوں الفضل انٹر نیشنل 21 اپریل 2006ء) کی اشاعت پر پُر زور احتجاج کیا گیا۔پریس ریلیز 9 جنوری 2006 کو جماعت احمدیہ ڈنمارک نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس کا متن یہ تھا۔"جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز کاٹونوں کی اشاعت پر پر زور احتجاج کرتی ہے اور سفارت خانوں کو جلانے اور ڈینیش جھنڈے جلانے کی نفی کرتی ہے اور جماعت احمد یہ ڈنمارک کے قوانین ( جس میں مذہبی آزادی بھی شامل ہے ) کی پاسداری کرتی ہے۔مگر آزادی ضمیر کی حد متعین کرتی ہے۔آزادی ضمیر کے نتیجہ میں ہی مذہبی آزادی ہمیں حاصل ہے جس سے تمام مسلمان مستفید ہورہے ہیں۔ہمارے نزدیک آزادی ضمیر کی کچھ حدود ہیں جن سے کسی صورت میں تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔اگر کوئی معاشرہ میں قوانین کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کا جواب ہمیں دلائل سے دینا ہے نہ کہ ظلم اور دھمکیوں سے۔اسی طرح اگر کوئی اخبار تو ہین آمیز مواد شائع کرے تو ہمارا فرض ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اس کا جواب دیا جائے اور جواب دینے میں عدل سے کام لیا جائے اور کسی سے زیادتی نہ کی جائے۔گورنمنٹ اور اخبار کی طرف سے معذرت کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے تسلیم کر لیں اور ہماری جماعت نے قبل ازیں بھی اخبار یولینڈ پوسٹن میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اس مسئلہ کو ڈائیلاگ کے ذریعہ حل کیا جائے اور مستقبل میں آزادی ضمیر کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں۔خاص طور پر جب کہ گلوبل دنیا میں مذہب کے بارے میں آزادی اظہار کا تعلق ہو۔دنیا اور ڈنمارک کی صورتحال گزشتہ 20 سالوں کی نسبت اب بہت مختلف ہے۔جو ہم نے قبل ازیں بیان کیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آزادی ضمیر پر پابندی لگا دی جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آزادی ضمیر کا اظہار ذمہ داری کے ساتھ ہو۔اور ہم جب کہ ایک معاشرہ میں رہ رہے ہیں تو ایک دوسرے کی عزت کی جائے اور کسی کے بارے میں منفی تاثرات کا اظہار نہ ہو۔یہ ہمارے معاشرہ کے لئے مستقبل میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے خاص طور پر ڈینش بچوں کے لئے مسلمانوں کے لئے اور غیر مسلموں کے لئے جو