ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 349
349 جا کر مسائل پوچھنا چاہے تو جائے۔گرجوں وغیرہ کی مرمت کیلئے آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمانوں سے مالی امداد لیں اور اخلاقی امداد لیں تو مسلمانوں کو مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہتر چیز ہے اور یہ نہ قرض ہوگا اور نہ احسان ہوگا بلکہ اس معاہدے کو بہتر کرنے کی ایک صورت ہوگی کہ اس طرح کے سوشل تعلقات اور ایک دوسرے کی مدد کے کام کئے جائیں۔شخص سیاسی وثیقه جات از عہد نبوی تا خلافت را شده از ڈاکٹر محمدحمید اللہ صفحہ 108 تا 112) تو یہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار مذہبی آزادی اور رواداری کے قیام کیلئے۔اس کے باوجود آپ پر ظلم کرنے اور تلوار کے زور پر اسلام پھیلانے کا الزام لگانا انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔۔۔۔پس جس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ شریعت اُتری ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پر اترے ہوئے احکامات کے معاملے میں زیادتی کرتا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فتح مکہ کے موقع پر بغیر اس شرط کے کہ اگر اسلام میں داخل ہوئے تو امان ملے گی عام معافی کا اعلان کر دیا تھا۔اس کی ایک مثال ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔اس کی مختلف شکلیں تھیں لیکن اس میں یہ نہیں تھا کہ ضرور اسلام قبول کرو گے تو معافی ملے گی۔مختلف جگہوں میں جانے اور داخل ہونے اور کسی کے جھنڈے کے نیچے آنے اور خانہ کعبہ میں جانے اور کسی گھر میں جانے کی وجہ سے معافی کا اعلان تھا۔اور یہ ایک ایسی اعلیٰ مثال تھی جو ہمیں کہیں اور دیکھنے میں نہیں آئی۔مکمل طور پر یہ اعلان فرما دیا کہ لا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہ جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ہزاروں درود اور سلام ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے اپنے یہ اعلیٰ نمونے قائم فرمائے اور ہمیں بھی اس کی تعلیم عطا فرمائی۔" (خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 131-144) جماعت احمد یہ ڈنمارک کا لوکل سطح پر رد عمل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر بچوں کے لئے ایک ڈینش رائٹر Mr Kare Bluittee نے اپنی کتاب " قرآن اور پیغمبر محمد کی لائف" میں ایک کارٹونسٹ کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بنائی ہوئی تصاویر شائع کیں جس کے بعد ڈنمارک کے اخبار میں یہ توہین آمیز خاکے شائع ہوئے تو مبلغ سلسلہ ڈنمارک، مکرم نعمت اللہ بشارت صاحب نے ایک احمدی دوست مکرم خرم جمیل صاحب کی معاونت سے ڈینیش زبان میں ایک مضمون تیار کر کے حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بغرض رہنمائی بھجوایا۔حضور کی ہدایت پر یہ احتجاجی مظ مضمون اشاعت کے لئے اخبار کوبھجوایا گیا اور یولینڈ پوسٹن میں مورخہ 13 اکتوبر 2005ء کے صفحہ نمبر 7 پر شائع ہوا۔جس میں ان تصاویر کی اشاعت پر نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف پُر زور احتجاج کیا گیا اور بتایا گیا کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اس زمانہ کو قلم کے جہاد کا زمانہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہم جہاں ان تصاویر کی اشاعت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں وہاں بات چیت ( ڈائیلاگ) کی دعوت دیتے ہیں۔نیز انہیں بتایا کہ گو آزادی ضمیر ہر ایک کا حق ہے مگر اس کے ساتھ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے