ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 348 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 348

348 ہو رہا ہے تو اس فائدے کو ہر ایک حصہ رسدی حاصل کرے گا۔اسی طرح اگر مدینے پر حملہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کرینگے۔پھر ایک شرط ہے کہ قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی جائے گی کیونکہ مخالفین ملکہ نے ہی مسلمانوں کو وہاں سے نکالا تھا۔مسلمانوں نے یہاں آ کر پناہ لی تھی اس لئے اب اس حکومت میں رہنے والے اس دشمن قوم سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر سکتے اور نہ کوئی مدد لیں گے۔ہر قوم اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔یعنی اپنے اپنے خرچ خود کریں گے۔اس معاہدے کی رو سے کوئی ظالم یا گناہگار یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہوگا کہ اسے سزادی جاوے یا اس سے انتقام لیا جاوے۔السيرة النبوية لابن هشام هجرة الرسول كتابه بين المهاجرين والانصار موادعة 355-354 ایڈیشن 2001ء) یعنی جیسا کہ پہلے بھی آچکا ہے کہ جو کوئی ظالم ہوگا، گناہ کرنے والا ہوگا غلطی کرنے والا ہوگا۔بہر حال اس کو سزا ملے گی ، پکڑ ہوگی۔اور یہ بلاتفریق ہوگی ، چاہے وہ مسلمان ہے یا یہودی ہے یا کوئی اور ہے۔پھر اسی مذہبی رواداری اور آزادی کو قائم رکھنے کیلئے آپ نے نجران کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دی اور انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی عبادت کی۔جبکہ صحابہ کا خیال تھا کہ نہیں کرنی چاہئے۔آپ نے کہا کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر اہل نجران کو جو امان نامہ آپ نے دیا اس کا بھی ذکر ملتا ہے اس میں آپ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری قبول فرمائی کہ مسلمان فوج کے ذریعہ سے ان عیسائیوں کی (جو نجران میں آئے تھے ) سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔ان کے گرجے ان کے عبادت خانے ، مسافر خانے خواہ وہ کسی دور دراز علاقے میں ہوں یا شہروں میں ہوں یا پہاڑوں میں ہوں یا جنگلوں میں ہوں ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی ہوگی اور اُن کی اس آزادی عبادت کی حفاظت بھی مسلمانوں پر فرض ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ اب یہ مسلمان حکومت کی رعایا میں اس لئے اس کی حفاظت اس لحاظ سے بھی مجھ پر فرض ہے کہ اب یہ میری رعایا بن چکے ہیں۔پھر آگے ہے کہ اسی طرح مسلمان اپنی جنگی مہموں میں انہیں ( یعنی نصاری کو ) ان کی مرضی کے بغیر شامل نہیں کریں گے۔ان کے پادری اور مذہبی لیڈر جس پوزیشن اور منصب پر ہیں وہ وہاں سے معزول نہیں کئے جائیں گے۔اسی طرح اپنے کام کرتے رہیں گے۔ان کی عبادت گاہوں میں مداخلت نہیں ہوگی ، وہ کسی بھی صورت میں زیر استعمال نہیں لائی جائیں گی۔نہ سرائے بنائی جائیں گی نہ وہاں کسی کو ٹھہرایا جائے گا اور نہ کسی اور مقصد میں ان سے پوچھے بغیر استعمال میں لایا جائے گا۔علماء اور راہب جہاں کہیں بھی ہوں ان سے جزیہ اور خراج وصول نہیں کیا جائے گا۔اگر کسی مسلمان کی عیسائی بیوی ہوگی تو اسے مکمل آزادی ہوگی کہ وہ اپنے طور پر عبادت کرے۔اگر کوئی اپنے علماء کے پاس