ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 14
14 سے بدظن کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا مقصود ہے۔پس ایسے موقع پر الزامی جواب ان کا منہ بند کر دیتا ہے۔اور عوام جو اس وقت محض تماشے کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں ایسے جواب سے متاثر ہو کر ان کے رعب میں نہیں آتے۔لیکن اگر کسی ایسے شخص سے گفتگو کرو جو ان دلائل سے متاثر ہو تو اس کو ہمیشہ تحقیقی جواب پہلے دو اور اس پر مقابلہ کر کے دکھاؤ کہ اسلام اور عیسائیت کی تعلیم میں کیا فرق ہے۔ایسے لوگوں کو اگر الزامی جواب پہلے دیا جائے تو وہ ٹھوکر کھا سکتے ہیں کہ حقیقی جواب کوئی نہیں۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 113-114 ) آنحضور بر آریہ سماج کے نازیبا حملوں کا دفاع 1857ء میں انگریزوں نے اپنی سلطنت کی مضبوطی اور عیسائیت کی تبلیغ کے لئے حکومتی مشینری کو استعمال کیا نیز اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر نازیبا حملے کیے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے حملوں کے دندان شکن جواب دیئے۔اسی طرح سوامی دیانند صاحب نے جنوری 1875ء میں بمبئی میں آریہ سماج جیسی خطرناک قومی اور نسلی تحریک کی بنیاد رکھی۔جس کا مقصد آریوں کو اقتدار میں لانا تھا۔اس کے لئے یہ پروگرام تجویز کیا کہ بالخصوص اسلام اور بانی اسلام پر دوسرے مخالفین کی ہم نوائی میں پوری بے باکی سے حملے کئے جائیں اور ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کی فضا قائم کر کے حب الوطنی اور قومی ترقی کے نام سے ہندوؤں کو منظم کیا جائے نیز انہیں بر سر اقتدار لانے کے لئے انگریزی علوم سے مسلح کیا جائے۔اس غرض کی تکمیل کے لئے سوامی دیانند نے "ستیارتھ پرکاش " جیسی رسوائے عالم کتاب لکھی۔اس پروگرام میں سب سے بڑی دقت یہ تھی کہ وید جو ہندوؤں کی اجتماعی تحریک کی بنیاد بن سکتے ہیں موجودہ روشنی کے زمانہ میں اس کی محرف و مبدل اور مضحکہ خیز تعلیمات کا چراغ نہیں جل سکتا تھا۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ویدوں کی سنسکرت کے الفاظ سے بے نیاز ہو کر عجیب و غریب اور نئی تفسیر تیار کی گئی اور ویدوں کو کھینچ تان کر ایسا سائنٹفک رنگ دینے کی کوشش کی گئی کہ ویدوں کے نام پر نئے وید تصنیف ہو گئے جن میں اگنی ، وایو، ادیت اور انگرہ دیوتاؤں کی بجائے اسلامی توحید کا پیوند لگایا گیا۔بیہودہ اور لا طائل قصوں سے سائنس کی جدید تھیوریاں ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔یہ تحریک کو بمبئی میں اٹھی۔لیکن ابتداء میں اسے سب سے زیادہ کامیابی صوبہ پنجاب میں ہوئی۔جہاں یہ تحریک آگ کی شکل میں اُبھری اور چند ماہ کے اندر اندر ہندوؤں کے سب ہی طبقوں میں پوری سرعت سے پھیلنی شروع ہو گئی۔خود سوامی دیانند نے 1877ء میں صوبہ پنجاب کے متعدد مشہور اضلاع کا ایک طوفانی دورہ کیا۔مباحثات کئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔جس کے نتیجہ میں اسی سال لاہور، امرت سر اور راولپنڈی میں آریہ سماج کی مضبوط شاخیں قائم ہوگئیں۔اسلام کے خلاف ایک بے پناہ طاقت پہلے ہی نبرد آزما تھی۔اب اس میں آریہ سماج کی