ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 342
342 یہودیوں کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی۔ان حالات میں جن کا میں نے مختصراً ذکر کیا ہے اگر جنگ کی صورت پیدا ہو اور مظلوم کو بھی جواب دینے کا موقع ملے، بدلہ لینے کا موقع ملے تو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ پھر اس ظلم کا بدلہ بھی ظلم سے لیا جائے۔کہتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔مکہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔آپ کو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول وضوابط کو آپ نے نہیں تو ڑا۔جو اخلاقی معیار آپ کی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں توڑا۔آج دیکھ لیں بعض مغربی ممالک جن سے جنگیں لڑرہے ہیں ان سے کیا کچھ نہیں کرتے لیکن اس کے مقابلے میں آپ کا اُسوہ دیکھیں جس کا تاریخ میں، ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔۔۔۔پھر اس دشمن اسلام کا واقعہ دیکھیں جس کے قتل کا حکم جاری ہو چکا تھا۔لیکن آپ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت آپ نے عطا فرمائی۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ :۔ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے جنگیں کرتا رہا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان عفو اور امان کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر ایک دستے پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن مسلمانوں کے سامنے اس وقت کوئی نہیں ٹھہر سکا تھا۔اس لئے فتح مکہ کے بعد جان بچانے کیلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی معافی کی طالب ہوئی تو آپ نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے اسے معاف فرما دیا۔اور پھر جب وہ اپنے خاوند کو لینے کیلئے جب گئی تو عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہیں آتا تھا کہ میں نے اتنے ظلم کئے ہوئے ہیں، اتنے مسلمان قتل کئے ہوئے ہیں، آخری دن تک میں لڑائی کرتا رہا تو مجھے کس طرح معاف کیا جا سکتا ہے۔بہر حال وہ کسی طرح یقین دلا کر اپنے خاوند عکرمہ کو واپس لے آئی۔چنانچہ جب عکرمہ واپس آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔پہلے تو آپ دشمن قوم کے سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے کہ یہ دشمن قوم کا سردار ہے اس لئے اس کی عزت کرنی ہے۔اس لئے کھڑے ہو گئے اور پھر عکرمہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔(ماخوذ مؤطا امام مالک کتاب النکاح و شرح زرقانی علی مؤطا الامام مالک باب نکاح المشرک اذا اسلمت زوجته قبله، حدیث نمبر 1183) عکرمہ نے پھر پوچھا کہ اپنے دین پر رہتے ہوئے ؟ یعنی میں مسلمان نہیں ہوا۔اس شرک کی حالت میں مجھے