ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 341
341 کے اور جائز اختیارات کے اپنے جنگجوانہ نعروں اور عمل سے غیر مذہب والوں کو یہ موقع دیا ہے اور ان میں اتنی جرات پیدا ہوگئی ہے کہ انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر بیہودہ حملے کئے ہیں اور کرتے رہے ہیں جبکہ اس سراپا رحم اور محسن انسانیت اور عظیم محافظ حقوق انسانی کا تو یہ حال تھا کہ آپ جنگ کی حالت میں بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جودشمن کو سہولت نہ مہیا کرتا ہو۔آپ کی زندگی کا ہر عمل، ہر فعل، آپ کی زندگی کا پل پل اور لمحہ لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپ مجسم رحم تھے اور آپ کے سینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کر سکتا جو آپ نے کئے ، امن میں بھی اور جنگ میں بھی، گھر میں بھی اور باہر بھی، روز مرہ کے معمولات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سے کئے گئے معاہدات میں بھی۔آپ نے آزادی ضمیر ، مذہب اور رواداری کے معیار قائم کرنے کی مثالیں قائم کر دیں۔اور پھر جب عظیم فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو جہاں مفتوح قوم سے معافی اور رحم کا سلوک کیا ، وہاں مذہب کی آزادی کا بھی پورا حق دیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی اعلیٰ مثال قائم کر دی کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره:257) کہ مذہب تمہارے دل کا معاملہ ہے ، میری خواہش تو ہے کہ تم بچے مذہب کو مان لو اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار لو، اپنی بخشش کے سامان کر لو، لیکن کوئی جبر نہیں۔آپ کی زندگی رواداری اور آزادی مذہب و ضمیر کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ان میں سے چند ایک کا میں ذکر کرتا ہوں۔تکالیف میں اخلاق کا اعلیٰ معیار کون نہیں جانتا کہ مکہ میں آپ کی دعویٰ نبوت کے بعد کی 13 سالہ زندگی کتنی سخت تھی اور کتنی تکلیف دہ تھی اور آپ نے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کتنے دکھ اور مصیبتیں برداشت کیں۔دوپہر کے وقت تپتی ہوئی گرم ریت پر لٹائے گئے ،گرم پتھر ان کے سینوں پر رکھے گئے۔کوڑوں سے مارے گئے ، عورتوں کی ٹانگیں چیر کر مارا گیا، قتل کیا گیا، شہید کیا گیا۔آپ پر مختلف قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔سجدے کی حالت میں بعض دفعہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی کمر پر رکھ دی گئی جس کے وزن سے آپ اٹھ نہیں سکتے تھے۔طائف کے سفر میں بچے آپ پر پتھراؤ کرتے رہے، بیہودہ اور غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔ان کے سردار ان کو ہلا شیری دیتے رہے، ان کو ابھارتے رہے۔آپ اتنے زخمی ہو گئے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہیں ، اوپر سے بہتا ہوا خون جوتی میں بھی آ گیا۔شعب ابی طالب کا واقعہ ہے۔آپ کو، آپ کے خاندان کو ، آپ کے ماننے والوں کو کئی سال تک محصور کر دیا گیا۔کھانے کو کچھ نہیں تھا، پینے کو کچھ نہیں تھا۔بچے بھی بھوک پیاس سے بلک رہے تھے، کسی صحابی کو ان حالات میں اندھیرے میں زمین پر پڑی ہوئی کوئی نرم چیز پاؤں میں محسوس ہوئی تو اس کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا کہ شاید کوئی کھانے کی چیز ہو۔یہ حالت تھی بھوک کی اضطراری کیفیت کی ، تو یہ حالات تھے۔آخر جب ان حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کرنی پڑی اور ہجرت کر کے مدینے میں آئے تو وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ آور ہوئے۔مدینہ کے رہنے والے