ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 343
343 آپ نے معاف کیا ہے، آپ نے مجھے بخش دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر عکرمہ کا سینہ اسلام کیلئے کھل گیا اور بے اختیار کہہ اٹھا کہ اے ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ واقعی بے حد حلیم اور کریم اور صلہ رحمی کرنیوالے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گیا۔اسلام آزادی ضمیر و مذہب سے پھیلا السيرة الحلبیہ - جلد سوم صفحہ 109 مطبوعہ بیروت) تو اسلام اس طرح حُسنِ اخلاق سے اور آزادی ضمیر و مذہب کے اظہار کی اجازت سے پھیلا ہے۔حسن خلق اور آزادی مذہب کا یہ تیر ایک منٹ میں عکرمہ جیسے شخص کو گھائل کر گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں اور غلاموں تک کو یہ اجازت دی تھی کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔لیکن اسلام کی تبلیغ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے بارے میں بتاؤ کیونکہ لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔یہ خواہش اس لئے ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا قرب عطا کرے گی اور تمہاری ہمدردی کی خاطر ہی ہم تم سے یہ کہتے ہیں۔چنانچہ ایک قیدی کا ایک واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف مہم بھیجی تو بنو حنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا۔صحابہ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ثمامہ تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہوگا۔اس نے کہا میر اظن اچھا ہے۔اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدر دانی کرنے والا ہے۔اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہے لے لیں۔اس کے لئے استعمال اس کی قوم کی طرف سے دیا جا سکتا تھا۔یہاں تک کہ اگلا دن چڑھ آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے۔چنانچہ ثمامہ نے عرض کی کہ میں تو کل ہی آپ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وہیں چھوڑا۔پھر تیسرا دن چڑھا پھر آپ اس کے پاس گئے آپ نے فرمایا۔اے تمامہ! تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ میں نے کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔تو تمامہ کو آزاد کر دیا گیا۔اس پر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا اور غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا۔اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب آپ کا چہرہ ہے۔بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ آپ کا دین ہوا کرتا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپ کا لایا ہوا دین ہے۔بخدا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔اب یہی شہر میر محبوب ترین شہر ہے۔آپ کے گھوڑ سواروں