ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 340 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 340

340 رابطے کئے ہیں ڈنمارک کی اعلیٰ سیکیورٹی ایجنسی کے افسر نے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے، تردید کی ہے کہ بالکل کبھی اس طرح نہیں ہوا اور نہ کوئی ہمارے پاس ایسی خبر ہے۔بہر حال وہ کہتے ہیں ہم مزید تحقیق کریں گے اس سے مزید باتیں کھل جائیں گی۔پہلے انہوں نے اخبار میں یہ خبر لکھی کہ اس کی ویڈیو ٹیپ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے جو اپنے رابطے کئے تو اب یہ کہنے لگے ہیں کہ نہیں ویڈ یوٹیپ نہیں آڈیو ٹیپ ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔یہ اپنے بیان بدلتے رہیں گے۔اور یہی پاکستانی صحافت کا یا اس صحافت کا جس پر پاکستانی اثر ہے، حال ہے۔لیکن بہر حال میں یہ بتادوں کہ بات اب یہاں اس طرح ختم نہیں ہوگی۔ہم پر یہ جواتنا گھناؤنا الزام لگایا ہے اور ان حالات میں احمدیوں کے خلاف جو سازش کی گئی ہے ہم اس کو جہاں تک یہاں کا قانون ہمیں اجازت دیتا ہے انشاء اللہ انجام تک لے کر جائیں گے تاکہ مسلمانوں کو، کم از کم ان مسلمانوں کو جو شریف فطرت لوگ ہیں، ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کے اخلاقی معیار کا پتہ لگ سکے۔الحكم 24 رستمبر 1904 صفحہ نمبر 4) ( خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 117 تا 130 ) خطبہ جمعہ 10 مارچ 2006ء حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسی تسلسل میں اپنے پانچویں خطبہ میں اسلامی تعلیمات کے محاسن بیان فرمائے اور آزادی ضمیر، آزادی مذہب و آزادی انسانیت کی دلکش تشریح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اسلام کی تعلیم ایک خوبصورت تعلیم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر غیر مسلموں کی طرف سے جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ الیسا دین لے کر آئے جس میں سوائے بختی اور قتل و غارت گری کے کچھ اور ہے ہی نہیں اور اسلام میں مذہبی رواداری، برداشت اور آزادی کا تصور ہی نہیں ہے اور اسی تعلیم کے اثرات آج تک مسلمانوں کی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں۔اس بارہ میں کئی دفعہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بدقسمتی سے مسلمانوں میں سے ہی بعض طبقے اور گروہ یہ تصور پیدا کرنے اور قائم کرنے میں مد و معاون ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ان کے اسی نظریے اور عمل نے غیر اسلامی دنیا میں اور خاص طور پر مغرب میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لغو اور بیہودہ اور انتہائی نازیبا اور غلیظ خیالات کے اظہار کا موقع پیدا کیا ہے۔جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض طبقوں اور گروہوں کے عمل مکمل طور پر اسلامی تعلیم اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہیں۔اسلام کی تعلیم تو ایک ایسی خوبصورت تعلیم ہے جس کی خوبصورتی اور حسن سے ہر تعصب سے پاک شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ کی زندگی کا ہر عمل ، ہر فعل اور پل پل مجسم رحم تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جنگوں کے مخصوص حالات پیدا کئے گئے تھے جن سے مجبور ہو کر مسلمانوں کو جوابی جنگیں لڑنی پڑیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج کل کی جہادی تنظیموں نے بغیر جائز وجوہات