ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 339
339 اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔اخباروں میں ان لوگوں کے بیان چھپ چکے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو پہلے دن سے ہی یہ موقف ہے اور یہ نظریہ ہے اور یہ تعلیم ہے کہ فی زمانہ ان حالات میں جہاد بند ہے اور یہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔۔۔۔۔دہشت گردی سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔۔۔پس یہ جاعت احمدیہ کا نظریہ ہے اور قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔اور بانگ دہل کھلے طور پر ہم یہ اعلان کرتے ہیں، کہتے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اب یہ لوگ جو جہاد جہاد کرتے پھر رہے ہیں جس کی آڑ میں سوائے دہشت گردی کے کچھ نہیں ہوتا یہ جہاد نہیں ہے اور سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔جماعت پر الزام کی تردید ابھی کل ہی کراچی میں جو خود کش حملہ ہوا ہے یہی لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔پھر ایسے حملے میں اپنے ملک کی معصوم جانیں بھی یہ لوگ لے لیتے ہیں۔یہ غلط حرکتیں کر کے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے انکاری تو یہ لوگ خود ہو رہے ہیں۔احمدی تو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دنیا میں پہنچانے کا جہاد کر رہے ہیں۔کون ہے ان لوگوں میں سے جو اسلام کے پیغام کو اس طرح دنیا کے کونے کونے میں پہنچارہا ہو۔ہاں تمہاری اس دہشت گردی اور اسلام کو بدنام کرنے والی جو جہادی کوششیں ہیں ان میں احمدی نہ بھی پہلے شامل ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔بہر حال یہ جماعت احمدیہ کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں ہیں، ہوتی رہی ہیں۔تو اس اخبار کو بھی میں کہتا ہوں، ان کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہ ملک نہیں ہے جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو، پاکستان کی طرح کہ اگر ملاں کی مرضی ہوگی یا ان کی مرضی ہوگی قانون پر عملدرآمد ہو جائے گا اور انصاف نہیں ہوگا۔بہر حال کچھ نہ کچھ حد تک ان لوگوں میں انصاف ہے۔ہم سارے کو ائف اکٹھے کر رہے ہیں، رپورٹس منگوا رہے ہیں۔یہ خبر دے کر اس افسر کے حوالے سے کہ ڈنمارک کے افسر نے کہا ہے کہ احمدیوں کی یقین دہانی پر کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم منسوخ ہو گئی ہے ہم نے یہ کارٹون شائع کئے تھے گویا ڈنمارک کی حکومت پر بھی اس سے الزام ثابت ہو رہا ہے کہ وہاں کی حکومت بھی اس کام میں ملوث ہے۔جبکہ وہاں کے وزیر اعظم شور مچارہے ہیں، کئی دفعہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ اخبار کا کام ہے ہم اس کو نا پسند کرتے ہیں لیکن آزادی صحافت کی وجہ سے کچھ کہ نہیں سکتے۔آزادی صحافت کیا چیز ہے، کیا نہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے۔لیکن بہر حال وہ اس چیز سے انکاری ہیں اور یہ اخبار کہہ رہا ہے کہ نہیں حکومت اس میں شامل ہے۔تو اس خبر کے خلاف تو ڈنمارک کی حکومت بھی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔آج کل جبکہ مسلمان دنیا میں ڈنمارک کے خلاف آگ بھڑ کی ہوئی ہے اس اخبار نے ایک من گھڑت خبر شائع کر کے ان کے حوالے سے شائع کی ہے یہ تو مزید اس آگ کو تیل دینے والی بات ہے، ہوا دینے والی بات ہے۔ہم نے جو ان سے