ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 338 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 338

338 مفاد حاصل کئے جائیں ان کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔یہ اپنے علماء میں سے کسی ایک کے منہ سے بھی اس شان کیا، اس شان کے لاکھویں حصے کے برابر بھی کوئی الفاظ ادا کئے ہوئے دکھا سکیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں۔یہ اس عاشق صادق کے الفاظ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے بارے میں جسے تم لوگ جھوٹا کہتے ہو۔اس شخص کی تو ہر حرکت وسکون اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تھا۔یہ گہرائی، یہ ہم، یا ادراک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا کبھی کہیں اپنے لٹریچر میں تو دکھاؤ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور جماعت کی ہمیشہ یہی تعلیم ہے اور اس پر چلتی ہے کہ ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے برداشت کر لیتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ: " ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔مگر جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ہیں ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔" پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) تو یہ ہے ہماری تعلیم۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دی ہوئی تعلیم ہے اور یہ ہے ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی بھڑ کائی ہوئی آگ اور اس کا صحیح فہم اور ادراک جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا۔اس کے بعد بھی یہ کہنا کہ نعوذ باللہ خاکے بنانے کے سلسلے میں اخبار اور حکومت ڈنمارک کو احمدیوں نے Encourage کیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے خاکے شائع کئے۔تو ان لوگوں پر سوائے اللہ تعالیٰ کی لعنت کے اور کچھ نہیں ڈالا جاسکتا۔جہاد بارے جماعت احمدیہ کا موقف اب دوسری بات یہ ہے کہ جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔اُس نے پہلی بات یہ کھی ہے لیکن اہم وہ بات تھی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ ہی نہیں مانتے یا ان کی تعلیم اب منسوخ ہوگئی ہے۔دوسری بات اس نے جہاد کی منسوخی کی لکھی ہے اس بارے میں مسلمانوں کے اپنے لیڈر گزشتہ دنوں میں جب اُن پر پڑی ہے اور جن طاقتوں کے ی طفیلی ہیں اور جن سے لے کر کھاتے ہیں انہوں نے جب ان کو دبایا تو انہیں کے کہنے پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ جو آج کل جہاد کی تعریف کی جاتی ہے اور یہ کہ بعض مسلمان تنظیمیں آئے دن حرکتیں کرتی رہتی ہیں یہ جہاد نہیں ہے اور