ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 13 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 13

13 پادری ٹیلر سے تبادلہ خیالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا سیالکوٹ میں جن پادریوں سے مذہبی تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری رہتا تھا ان میں پادری ٹیلر ایم اے ممتاز تھے۔پادری ٹیلر سکاچ مشن کے بڑے نامی گرامی اور فاضل پادری تھے۔ایک دفعہ حضرت اقدس سے ان کی اتفاق ملاقات ہو گئی۔اثنائے گفتگو بہت کچھ مذہبی گفتگو ہوتی رہی۔آپ کی تقریر اور دلائل نے پادری صاحب کے دل میں ایسا گھر کر لیا کہ ان کے دل میں آپ کی باتیں سنے کا بہت شوق پیدا ہو گیا۔اکثر ایسا ہوتا کہ پادری صاحب دفتر کے آخری وقت میں حضور کی خدمت میں آجاتے اور پھر آپ سے باتیں کرتے کرتے آپ کی فرودگاہ تک پہنچ جاتے اور بڑی خوشی سے اس چھوٹے سے مکان میں جو عیسائیوں کی خوش منظر اور عالی شان کوٹھیوں کے مقابلہ میں ایک جھونپڑ اسا تھا بیٹھے رہتے اور بڑی توجہ اور محویت وعقیدت سے باتیں سنا کرتے اور اپنی طرز معاشرت کے تکلفات کو بھی اس جگہ بھول جاتے۔بعض تنگ ظرف عیسائیوں نے پادری صاحب کو اس سے روکا اور کہا کہ اس میں آپ کی اور مشن کی خفت ہے آپ وہاں نہ جایا کریں۔لیکن پادری صاحب نے بڑے حلم اور متانت سے جواب دیا کہ "یہ ایک عظیم الشان آدمی ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتا تم اس کو نہیں سمجھتے میں خوب سمجھتا ہوں " تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 92-93) پادری ٹیلر سے عیسائیت کے حوالہ سے کئی مباحثے بھی ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ مگر اسلام کے دفاع میں آپ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ایک مباحثہ میں پادری ٹیلر نے کہا کہ " مسیح کو بن باپ پیدا کرنے میں سر یہ تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور آدم کی شرکت سے جو گنہ گار تھا بری رہے۔" حضرت صاحب نے جواباً فرمایا کہ "مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے؟ اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا۔" کج بحثی کرنے والے کو الزامی جواب دو تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 96) بٹالہ میں عیسائی مشن قائم ہوتے ہی عیسائیوں نے مسلمانوں میں ارتدار کا جال پھیلانا شروع کر دیا منشی نبی بخش صاحب پٹواری جنہیں بڑی مذہبی غیرت تھی اور عیسائیوں سے گفتگو کرنے کا شوق بھی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے پٹواری صاحب کو تردید عیسائیت میں بعض الزامی اور تحقیقی جوابات سکھائے اور انہیں اجازت دی کہ وہ بے شک ایک عیسائی مناظر کی حیثیت سے دل کھول کر اعتراض کریں اور آپ سے ہر مسئلہ میں جواب حاصل کریں۔آپ بیان کرتے ہیں کہ حضور بعض اوقات خود بائبل پر نشان کرتے یا اقتباسات الگ تحریر فرما دیتے تھے جنہیں میں خوب یاد کر لیتا تھا۔حضرت اقدس مجھ کو عیسائیوں کے اعتراضات کے الزامی اور تحقیقی دونوں پہلوؤں پر مشتمل جوابات بتاتے تھے۔الزامی جوابات کے متعلق آپ کا ارشاد یہ ہوتا تھا کہ جب تم کسی جلسہ عام میں پادریوں سے مباحثہ کرو تو ان کو ہمیشہ الزامی جواب دو۔اس لئے کہ ان لوگوں کی نیت نیک نہیں ہوتی اور لوگوں کو گمراہ کرنا ، اسلام