ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 336 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 336

میں شائع ہوا۔336 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق ہی ہے جس نے جماعت میں بھی اس محبت کی اس قدر آگ لگا دی ہے کہ یورپ میں عیسائیت سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں آنے والے یورپین باشندے بھی اس عشق و محبت سے سرشار ہیں۔مکرم عبدالسلام میڈسن صاحب کا انٹرویو چنانچہ ڈنمارک کے ہمارے ایک احمدی مسلمان عبد السلام میڈسن صاحب کا انٹرویو بھی اخبار Venster Bladet نے 16 فروری 2006ء کو شائع کیا ہے۔ایک لمبا انٹرویو ہے۔اس کا کچھ حصہ میں آپ کو سنا تا ہوں۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ میڈسن صاحب نے مزید کہا کہ ڈنمارک کے وزیراعظم کو مسلمان ممالک کے سفیروں سے بات کرنی چاہئے تھی کیونکہ لوگ ان خاکوں کو دیکھ کر غصہ میں آتے ہیں۔اگر وزیر اعظم نے مسلمان ممالک کے سفیروں سے بات کی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ مسئلہ کس قدر اہم تھا اور اس کے کیا نتائج پیدا ہو سکتے تھے۔اور یہ جور د عمل سامنے آیا ہے یہ بالکل وہی ہے جو میں ان خاکوں کی اشاعت پر محسوس کر رہا تھا کہ رد عمل ہوگا۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کے لئے زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں مثال ہیں۔جب ایسی ذات پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو یہ ہر ایک مسلمان کے لئے تکلیف دہ امر ہے۔اور وہ اس پر دکھ محسوس کرتا ہے۔عبد السلام میڈسن صاحب یہ کہتے ہیں کہ یولنڈ پوسٹن جو وہاں کا اخبار تھا اس کو ان خاکوں کی اشاعت سے کیا حاصل ہوا ہے۔پھر آگے وہ لکھتا ہے کہ میڈسن صاحب کو بھی اس امر کی بہت تکلیف ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کئے گئے ہیں۔پھر کہتا ہے کہ میڈسن صاحب نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کے بارے میں بڑی تفصیل سے ملتا ہے کہ ان کا حلیہ مبارک کیا تھا، کیسا تھا۔پھر انہوں نے لکھا کہ یہ ایک گندی بچگانہ حرکت ہے۔پھر انہوں نے لکھا ہے کہ ڈنمارک میں قانون توہین موجود ہے، پہلے میرے خیال میں اس کی ضرورت نہ تھی مگر اب میرے خیال میں فساد کو روکنے کے لئے اس قانون کو اپلائی (Apply) کرنے کی ضرورت ہے تا کہ فسادنہ ہو۔کہتے ہیں کہ باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین تو خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ خود ہی اس کی سزا دے گا۔تو یہ دیکھیں ایک یورپین احمدی مسلمان کا کتنا پکا ایمان ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس گھناؤنی حرکت کرنے پر یہ ہمارے رد عمل تھے۔ہمارے دلوں میں عشق رسول غیروں سے لاکھوں کروڑوں حصے زیادہ ہے ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے لاکھوں کروڑوں حصے زیادہ ہے جو ہم پر اس قسم کے اتہام اور الزام لگاتے ہیں۔اور یہ سب کچھ ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس