ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 335 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 335

335 ایک وزیر صاحبہ بھی آئی ہوئی تھیں اور وہاں قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم کا ذکر ہوا تھا۔اور جو کچھ بھی وہاں کہا گیا تھا وہ صاف تھا، کھلا تھا۔کوئی چھپ کے بات نہیں ہوئی تھی۔اور اخباروں نے وہاں شائع بھی کیا تھا بلکہ تھوڑ اسا انکے ٹی وی پروگرام میں بھی آیا تھا۔اور کوئی علیحدہ ملاقات نہیں تھی اور وہی جو ریسیپشن میں میری تقریر تھی میرے خیال میں ایم ٹی اے نے بھی دکھا دی ہے۔نہیں دکھائی تو اب دکھا دیں۔بہر حال یہ ٹھیک ہے کہ شاید وہاں تقریر میں ہی ان لکھنے والے صاحب کی طرح لوگوں کا ذکر ہوا ہو کہ یہ چند لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کرنے والے ہیں ورنہ مسلمان اکثریت اس طرح کے جہاد اور دہشت گردی کو نا پسند کرتی ہے۔بہر حال ہماری طرف منسوب کر کے بہت بڑا جھوٹ بولا گیا ہے۔شاید کوئی جھوٹا ترین شخص بھی یہ بات کہتے ہوئے کچھ سوچے کیونکہ آج کل تو ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے۔اور ان صاحب کے بقول اردو انگریزی اور ڈینش میں ویڈیو ٹیپ بھی موجود ہیں۔تو اگر بچے ہیں تو یہ ٹیمیں دکھا دیں، ہمیں بھی دکھا دیں۔پتہ چل جائے گا کہ کون بولنے والے ہیں، کیا ہیں۔بہر حال اس جھوٹی خبر پھیلانے والے کو پہلی بات تو میں یہ ہی کہتا ہوں کہ یہ سراسر جھوٹ ہے اور لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔اگر تم سچے ہوتو تم بھی یہی الفاظ دہرادو۔لیکن کبھی بھی نہیں دُہرا سکتے اگر رتی بھر بھی اللہ کا خوف ہوگا۔ویسے تو ان لوگوں میں خدا کا خوف کم ہی ہے۔لیکن اگر نہیں بھی دُہراتے تب بھی اس شدت کا جھوٹ بول کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دعا کے نیچے یہ لوگ آچکے ہیں۔بہر حال جماعت احمدیہ کے خلاف ایسی مذموم حرکتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں اور جب بھی اپنے زعم میں ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو نا کامی کا منہ دکھاتا ہے اور جماعت احمدیہ سے اپنے پیار کا وہ اظہار کرتا ہے جو پہلے سے بڑھ کر اس کا فضل لے کر آتا ہے۔کارٹون کے فتنہ میں سب سے پہلے جماعت نے آواز اٹھائی جب سے یہ کارٹون کا فتنہ اٹھا ہے سب سے پہلے جماعت احمدیہ نے یہ بات اٹھائی تھی اور اس اخبار کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔اس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔پھر دسمبر، جنوری میں ہم نے دوبارہ ان اخباروں کولکھا تھا اور بڑ اکھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا ان دنوں میں میں قادیان میں تھا جب ہمارے مبلغ نے وہاں اخبار کو لکھا تھا۔ہمارے مبلغ کا اخبار میں انٹر ویو شائع ہوا تھا۔تو اس اخبار نے یہ لکھنے کے بعد کہ جماعت احمدیہ کا رد عمل اس بارے میں کیا ہے اور یہ لوگ توڑ پھوڑ کی بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی میں ڈھال کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔آگے وہ لکھتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ( امام صاحب کا انٹرویو تھا نا ) کہ امام کو ان کارٹونوں سے تکلیف نہیں پہنچی بلکہ ان کا دل کارٹونوں کے زخم سے چور ہے۔بلکہ اس تکلیف نے انہیں اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان کارٹونوں کے بارے میں ایک مضمون لکھیں چنانچہ انہوں نے وہ مضمون لکھا اور وہاں ڈنمارک کے اخبار وہ