ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 334 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 334

334 قادیانیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی، اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ایک ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں۔یہاں تک تو ٹھیک ہے، ہم نے انہیں خاص طور پر تو نہیں بتایا مگر ہمارا دعویٰ یہی ہے کہ جماعت احمد یہ ہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کی علمبردار ہے۔آگے لکھتے ہیں کہ ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔"ٹھیک ہے لیکن شرائط کے ساتھ منسوخ قرار دے دیا ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامی احکامات ( نعوذ باللہ ) تبدیل کر دیئے ہیں“۔یہ سراسر اتہام اور الزام ہے۔اس لئے (آگے ذرا دیکھیں اس کی شرارت ) کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہو چکا ہے“۔نعوذ باللہ۔اخبار لکھتا ہے کہ قادیانیوں کی اس یقین دہانی پر کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار صرف سعودی عرب تک محدود ہیں، 30 ستمبر کوڈ مینش اخبار نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے 12 کارٹون شائع کئے جن کا مرکزی نکتہ فلسفہ جہاد پر حملہ کرنا تھا۔اعلیٰ ڈینش افسر نے کہا کہ ہمیں جنوری کے آغاز تک اس بات کا یقین تھا کہ قادیانیوں کا دعوی سچا تھا کیونکہ جنوری تک سوائے سعودی عرب کے کسی اسلامی ملک نے ہم سے با قاعدہ احتجاج نہیں کیا تھا۔او آئی سی کی خاموشی ہمارے یقین کو پختہ کر رہی تھی۔اس ذمہ دار افسر نے اس نمائندے کو اس ملاقات کی ویڈیو ٹیپ بھی سنائی۔جس میں ڈینش اردو اور انگریزی زبان میں گفتگوریکارڈ تھی۔روزنامه جنگ لندن 2 / مارچ 2006ء) یہ خبر بے بنیاد ہے جھوٹ کے تو کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ایسی بے بنیاد خبر ہے کہ انتہا ہی نہیں ہے، یہ ڈاکٹر جاوید کنول صاحب شاید جنگ کے کوئی خاص نمائندے ہیں۔پہلے تو خیال تھا کہ ڈنمارک میں ہے لیکن اب پتہ لگا ہے کہ یہ صاحب اٹلی میں ہیں اور وہاں سے جنگ کی اور جیو کی نمائندگی کرتے ہیں۔اور قانو نا یہ ویسے بھی جو ابھی تک مجھے پتہ لگا ہے کہ ڈنمارک کے حوالے سے یہ خبر کسی اخبار میں نہیں دے سکتے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الزام لگایا ہے کہ جماعت کا ستمبر میں جلسہ ہوا۔جماعت احمدیہ کا گزشتہ سال کا جلسہ تمبر میں تو وہاں ہوا ہی نہیں تھا۔میرے جانے کی وجہ سے سکنڈے نیوین ممالک کا اکٹھا جلسہ ہوا تھا اور وہ سویڈن میں ہوا تھا۔اور ایم ٹی اے پر ساروں نے دیکھا کہ کیا ہم نے باتیں کیں اور کیا نہیں کیں۔ڈنمارک میں ایک ریسیپشن ڈنمارک میں میرے جانے پر ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) ہوئی تھی جس میں کچھ اخباری نمائندے، پریس کے نمائندے بھی تھے اور دوسرے پڑھے لکھے دوست بھی اس میں تھے۔سرکاری افسران بھی تھے،