ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 333
333 پس آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس نے اس زمانے کے امام کو پہچانا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبے کی وجہ سے بہت زیادہ درود پڑھیں، دعائیں کریں، اپنے لئے بھی اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی تا کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو تباہی سے بچالے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں امت مسلمہ کو بہت جگہ دیں۔غیروں کے بھی ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ابھی پتہ نہیں کن کن مزید مشکلوں اور ابتلاؤں میں اور مصیبتوں میں ان لوگوں نے گرفتار ہونا ہے اور ان مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور کیا کیا منصوبے ان کے خلاف ہورہے ہیں۔اللہ ہی رحم کرے۔" خطبہ جمعہ 3 مارچ 2006ء ( خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 103-116 ) مورخہ 3 مارچ 2006ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسی تسلسل میں چوتھا خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں روز نامہ جنگ میں جماعت احمد یہ بارے غلط خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا۔گزشتہ دنوں میں ڈنمارک کے اخبار میں جولغو اور بیہودہ خاکے بنائے گئے تھے اور پھر دوسری دنیا میں بھی بنائے تھے، ان کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک انتہائی غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی ہوئی ہے۔ہڑتالیں ہو رہی ہیں، جلوس نکالے جارہے ہیں۔بہر حال جو بھی غصے کا اظہار ہے، جب اس کو کوئی سنبھالنے والا نہ ہو، اس بہاؤ کو کوئی روکنے والا نہ ہو، اس کو صحیح سمت دینے والا نہ ہو تو پھر اسی طرح ہی رد عمل ظاہر ہوا کرتے ہیں۔کیونکہ مسلمان جیسا بھی ہو، نمازیں پڑھنے والا ہے یا نہیں، اعمال بجالانے والا ہے یا نہیں لیکن ناموس رسالت کا سوال آتا ہے تو بڑی غیرت رکھنے والا ہے، مر مٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ان حالات میں اس خبر کو شائع کرنا اور پھر کل جمعرات کے دن شائع کرنا جبکہ آج جمعہ کے روز اکثر جگہوں پر پھر جلوس نکالنے اور ہڑتالیں کرنے اور اس طرح کے رد عمل کا پروگرام ہے تو یہ چیز خالصتا اس لئے کی گئی تھی کہ احمدیوں کے خلاف فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ انتہائی ظالمانہ اور فتنہ پردازی کی کوشش ہے تا کہ اس خبر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم علم مسلمانوں کو بھڑکا کر احمدیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔بہر حال یہ ان کی کوششیں ہیں کہ کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے جب احمدیوں کے خلاف لا علم، کم علم مسلمانوں کو بھڑ کایا نہ جائے۔جماعت بارے ایک غلط خبر کی تردید آپ میں سے کئی لوگوں نے یہ خبر پڑھی ہو گی لیکن چونکہ سب پڑھتے نہیں ہیں اس لئے میں یہ خبر پڑھ دیتا ہوں۔کوپن ہیگن کے حوالے سے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے۔انکے رپورٹر ہیں ڈاکٹر جاوید کنول صاحب، وہ کہتے ہیں کہ ڈنمارک کے خفیہ ادارے کے ایک ذمہ دار افسر نے اپنا نام اور عہدہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے جنگ اخبار کو بتایا کہ ستمبر 2005ء میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا جس میں