ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 330
330 چاہئے، جو منایا گیا۔یا تو بُرا نہ مناتے یا پھر یہ جواب دیتے کہ جس غلطی سے دنیا میں فساد پیدا ہو گیا ہے ہمیں چاہئے کہ اب کسی مذہب یا اس کے بانی اور نبی یا کسی قوم کے بارے میں ایسی سوچ کو ختم کر کے پیارا ور محبت کی فضا پیدا کریں۔لیکن اس طرح کے جواب کی بجائے ڈنمارک کے اس اخبار کے ایڈیٹر نے جس میں یہ کارٹون شائع ہونے پر دنیا میں سارا فساد شروع ہوا ہے، اس نے ایران کے اس اعلان پر یہ کہا ہے کہ وہاں جو اخبار میں کارٹون بنانے کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا گیا ہے یعنی جنگ عظیم دوم میں یہودیوں سے متعلقہ جو بھی کارٹون بننے تھے وہ ایک قوم پر ظلم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کارٹون بنے تھے۔کسی نبی کی بہتک یا تو ہین کے بارے میں نہیں بننے تھے۔تو بہر حال ایڈیٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہم اس میں قطعا حصہ نہیں لیں گے۔اور اپنے قارئین کی تسلی کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے قاری تسلی رکھیں کہ ہمارے اخلاقی معیار ابھی تک قائم ہیں۔ہم ایسے نہیں کہ حضرت عیسی کے یا ہالوکاسٹ کے کارٹون شائع کریں۔اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی بھی حالت میں ایرانی اخبار اور میڈیا کے اس بد ذوق قسم کے مقابلے میں حصہ لیں۔تو یہ ہیں ان کے معیار، جو اپنے لئے اور ہیں اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے اور ہیں۔بہر حال یہ اُن کے کام ہیں ، کئے جائیں۔۔۔مسلمانوں کی حرکتیں آنحضرت کی ذات پر توہین آمیز حملے کا باعث بنتی ہیں بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ یہ جو مسلمانوں کی حرکتیں ہیں ان سے مسلمانوں کے دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں اور مسلمان کی طاقت کم کرتے چلے جارہے ہیں اور ان مسلمانوں کو عقل نہیں آرہی۔بہر حال یہ تو ظاہر وباہر ہے کہ یہ عقل ماری جانا اور یہ پھٹکار اس لئے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نہیں مانا اور نہ ہی مان رہے ہیں نہ اس طرف آتے ہیں اور آپ کے مسیح و مہدی کی تکذیب کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہی ہے اور وہ ہر احمدی کو کرنی چاہئے۔اس طرف پہلے بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ خدا ان کو عقل اور سمجھ دے اور یہ منافقین اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر اسلام کو بدنام کرنے والے اور ایک دوسرے کا گلا کاٹنے والے نہ بنیں۔بہر حال جو کچھ بھی ہے جب اسلام کے دشمن ان مسلمانوں کو کسی نہ کسی ذریعے سے ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو احمدی بہر حال درد محسوس کرتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں یا منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان بھٹکے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد کم علمی کی وجہ سے ان لیڈروں اور علماء کی باتوں میں آکر ایسی نامناسب حرکتیں اور کارروائیاں کر جاتی ہے جس کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنتے ہوئے ان لوگوں کو، ان نام نہا دعلماء کے چنگل سے چھڑائے اور یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے انجانے میں یا بیوقوفی میں اور اسلام کی محبت کے جوش میں آکر جو اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں وہ نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ان کو سیدھی راہ بھی دکھائے، کیونکہ ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے دشمن کو اسلام پر گند اچھالنے کا موقع ملتا ہے۔اور