ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 331
331 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی توہین آمیز حملے کرنے کا موقع ملتا ہے۔پس ہر احمدی کو آجکل دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ عالم اسلام اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے انتہائی خوفناک حالت سے دوچار ہے۔اگر ہمارے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا عشق اور محبت ہے تو ہمیں امت کے لئے بھی بہت زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں۔اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جو ہم پہلے بھی کر رہے ہیں۔۔۔یہ جو آجکل کے نام نہاد جہاد ہو رہے ہیں غیروں سے بھی جنگیں ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔اب ان علماء سے کوئی پوچھے کہ تم جو بے علم اور ان پڑھ مسلمانوں کے جذبات کو ابھار کر ( جو مذہبی جوش میں آ کر اپنی طرف سے غیرت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط حرکتیں کرتے ہیں ) ، ان کی جو تم غلط رہنمائی کرتے ہو تو یہ کون سا اسلام ہے؟ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ جب تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا کلمات سنو، باتیں سنو تو آپ کے محاسن بیان کرو۔آپ پر درود بھیجو۔یہ تمہارے جہاد سے زیادہ افضل ہے۔جان دینے سے زیادہ بہتر ہے کہ دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دو۔اور اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ بجائے تشدد کے دعاؤں اور درود پر زور دو اور اس کے ساتھ ہی اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرو۔اپنے نفسوں کو ٹو لو کہ کس حد تک ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں۔یہ وقتی جوش تو نہیں ہے جو بعض طبقوں کے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہمیں بھی اس آگ کی لپیٹ میں لے رہا ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ جہاں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں وہاں اپنے ماحول میں اگر مسلمانوں کو سمجھا سکتے ہوں تو ضرور سمجھائیں کہ غلط طریقے اختیار نہ کرو بلکہ وہ راہ اختیار کرو جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پسند کیا ہے۔اور وہ راہ ہمیں بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے میری رضا حاصل کرنی ہے، جنت میں جانا ہے تو مجھ پر درود بھیجو۔آنحضرت کے دفاع کے لئے جری اللہ کے پیچھے کھڑا ہونا ضروری ہے پس آج احیاء دین کے لئے اسلام کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس لانے کے لئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں کھڑا ہونے کے لئے ، اللہ تعالیٰ نے جس جری اللہ کو کھڑا کیا ہے اس کے پیچھے چلنے سے اور اس کے دیئے ہوئے براہین اور دلائل سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے بتائے ہیں اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا پوری آب و تاب اور پوری شان و شوکت کے ساتھ دنیا میں لہرائے گا۔انشاء اللہ۔اور لہراتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اور لوگوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔ا یر زمانہ کیس مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم