ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 329
329 مسلمان عوام کو چاہئے کہ ان غلط قسم کے علماء اور لیڈروں کے پیچھے چلنے کی بجائے ، ان کے پیچھے چل کر اپنی دنیا و آخرت خراب کرنے کی بجائے ، عقل سے کام لیں۔آج مسلمانوں کی بلکہ تمام دنیا کی صحیح سمت کا تعین کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔اس کو پہچا نہیں ، اس کے پیچھے چلیں اور دنیا کی اصلاح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے اس مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہوں کہ اب کوئی دوسرا طریق، کوئی دوسرار ہبر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے اور چلانے والا نہیں بنا سکتا۔اسلام کی شان و شوکت کو بحال کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کو مسیح و مہدی کی جماعت نے ہی قائم کرنا ہے اور کروانا ہے انشاء اللہ " خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 89-95) خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء حضور نے اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے غیروں اور اپنوں کو اس خطبہ میں ہدایات سے نوازا۔آپ خطبہ کے آغاز میں فرماتے ہیں اسلامی ممالک کا رد عمل آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور ظالمانہ رویہ اختیار کرنے پر مغرب کے بعض اخباروں اور ملکوں نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، آج بھی مختصراً اس کے بارے میں کچھ کہوں گا۔اور اس کے رد عمل میں بعض اخباروں اور ملکوں کے خلاف مسلمان ممالک میں جو ہوا چل رہی ہے اس بارے میں میں کہنا چاہتا ہوں۔یہ انفرادی طور پر بھی ہیں، اجتماعی طور پر بھی ہیں، حکومتی سطح پر بھی احتجاج ہو رہے ہیں بلکہ اسلامی ممالک کی آرگنائزیشن ( او آئی سی ) نے بھی کہا ہے کہ مغربی ممالک پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ معذرت بھی کریں اور ایسا قانون بھی پاس کریں کہ آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر انبیاء تک نہ پہنچیں ، کیونکہ اگر اس سے باز نہ آئے تو پھر دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔ان ملکوں کا یا آرگنائزیشن کا یہ بڑا اچھا رد عمل ہے۔اللہ تعالیٰ اسلامی ممالک میں اتنی مضبوطی پیدا کر دے اور ان کو توفیق دے کہ یہ حقیقت میں دلی درد کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ایسے فیصلے کروانے کے قابل ہوسکیں۔ایرانی اخبار کا غیر اسلامی رد عمل گزشتہ دنوں ایران کے ایک اخبار نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرکت کا بدلہ لینے کے لئے اپنے اخبار میں مقابلے کروائے گا جس میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا تھا اس سلوک کے حوالے سے، ان کے کارٹون بنانے کا مقابلہ ہوگا۔گو یہ اسلامی رد عمل نہیں ہے ، یہ طریق اسلامی نہیں ہے لیکن مغربی ممالک جو آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں اور ہر قسم کی بیہودگی کو اخبار میں چھاپنے کو آزادی صحافت کا نام دیتے ہیں ان کو اس پر بُرا نہیں منانا