ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 328 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 328

328 مسلمانوں کا علاج یہی ہے۔تو ان لوگوں کو یہ مجھ لینا چاہئے کہ یہ تو ہمیں نہیں پتہ کہ مسلمانوں کا یہ علاج ہے یا نہیں لیکن ان حرکتوں سے وہ خدا کے غضب کو بھڑ کانے کا ذریعہ ضرور بن رہے ہیں۔جو کچھ بیوقوفی میں ہو گیا، وہ تو ہو گیا لیکن اس کو تسلسل سے اور ڈھٹائی کے ساتھ کرتے چلے جانا اور اس پر پھر مصر ہونا کہ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔یہ چیز اللہ تعالیٰ کے غضب کو ضرور بھڑکاتی ہے۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا باقی مسلمانوں کا رد عمل تو وہ جانیں۔ایک احمدی کا رد عمل لیکن ایک احمدی مسلمان کا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ ان کو سمجھا ئیں، خدا کے غضب سے ڈرائیں۔جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں اور اپنے قادر و مقتدر خدا کے آگے جھکیں اور اس سے مدد مانگیں۔اگر یہ لوگ عذاب کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں تو وہ خدا جو اپنی اور اپنے پیاروں کی غیرت رکھنے والا ہے، اپنی قہری تجلیات کے ساتھ آنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔وہ جو سب طاقتوں کا مالک ہے، وہ جو انسان کے بنائے ہوئے قانون کا پابند نہیں ہے، ہر چیز پر قادر ہے، اس کی چکی جب چلتی ہے تو پھر انسان کی سوچ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی ، پھر اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔مغرب کو تنبیہ پس احمدیوں کو مغرب کے بعض لوگوں کے یا بعض ملکوں کے یہ رویے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے۔خدا کے مسیح نے یورپ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے اور امریکہ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے۔یہ زلزلے، یہ طوفان اور یہ آفتیں جو دنیا میں آ رہی ہیں یہ صرف ایشیا کے لئے مخصوص نہیں ہیں۔امریکہ نے تو اس کی ایک جھلک دیکھ لی ہے۔پس اے یورپ! تو بھی محفوظ نہیں ہے۔اس لئے کچھ خوف خدا کرو اور خدا کی غیرت کو نہ للکار و۔لیکن ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ممالک یا مسلمان کہلانے والے بھی اپنے رویے درست کریں۔ایسے رویے اور ایسے رد عمل ظاہر کریں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کو دنیا کے سامنے رکھیں، ان کو دکھا ئیں۔تو یہ وہ صیح رد عمل ہے جو ایک مومن کا ہونا چاہئے۔مسلمانوں کا رد عمل غیر اسلامی ہے اب آجکل جو بعض حرکتیں ہو رہی ہیں یہ کون سا اسلامی رد عمل ہے کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو مار دیا، اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگادی۔اسلام تو غیر قوموں کی دشمنی میں بھی عدل کو ، انصاف کو ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا، عقل سے چلنے کا حکم دیتا ہے، کجا یہ کہ پچھلے دنوں میں جو پاکستان میں ہوا یا دوسرے اسلامی ملکوں میں ہو رہا ہے۔بہر حال ان اسلامی ممالک میں چاہے وہ غیر ملکیوں کے کاروبار کو یا سفارتخانوں کو نقصان پہنچانے کے عمل ہیں یا اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے عمل ہیں یہ سوائے اسلام کو بدنام کرنے کے اور کچھ نہیں۔پس مسلمانوں کو چاہئے،