ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 327 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 327

327 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ، بلکہ اس کے تو کئی حوالے ہیں کہ مجھ پر تو اللہ اور اس کے فرشتوں کا درود بھیجنا ہی کافی ہے تمہیں جو حکم ہے وہ تمہیں محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔پس ہمیں اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اس درود کی ضرورت ہے۔باقی اس آیت اور اس حدیث کا جو پہلا حصہ ہے اس سے اس بات کی ضمانت مل گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گرانے اور استہزاء کی چاہے یہ لوگ جتنی مرضی کوشش کر لیں اللہ اور اس کے فرشتے جو آپ پر سلامتی بھیج رہے ہیں ان کی سلامتی کی دعا سے مخالف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر حملوں سے ان کو کبھی کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اسلام نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے اور تمام دنیا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانا ہے۔" خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء حضور نے اگلے جمعہ اسی مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔خطبات مسرور جلد 4 صفحه 75-88) "جونا زیبا اور بیہودہ حرکت مغرب کے بعض اخباروں نے کی اور جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑی اور اس پر جو رد عمل ظاہر ہوا اس بارے میں میں نے کچھ کہنا ضروری سمجھا تا کہ احمدیوں کو بھی پتہ لگے کہ ایسے حالات میں ہمارے رویے کیسے ہونے چاہئیں۔ویسے تو اللہ کے فضل سے پتہ ہے لیکن یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔اور دنیا کو بھی پتہ چلے کہ ایک مسلمان کا صحیح رد عمل ایسے حالات میں کیا ہوتا ہے۔جہاں ہم دنیا کو سمجھاتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کا نازیبا اظہار خیال، کسی بھی طرح کی آزادی کے زمرے میں نہیں آتا۔تم جو جمہوریت اور آزادی ضمیر کے چیمپیئن بن کر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہو یہ نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ ہی آزادی ضمیر ہے۔ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کچھ ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں۔جس طرح ہر پیشے میں ضابطہ اخلاق ہیں، اسی طرح صحافت کے لئے بھی ضابطہ اخلاق ہے اور اسی طرح کوئی بھی طرز حکومت ہو اس کے بھی قانون قاعدے ہیں۔آزادی رائے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے کے جذبات سے کھیلا جائے، اس کو تکلیف پہنچائی جائے۔اگر یہی آزادی ہے جس پر مغرب کو ناز ہے تو یہ آزادی ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں ہے بلکہ یہ تنزل کی طرف لے جانے والی آزادی ہے۔مغرب بڑی تیزی سے مذہب کو چھوڑ کر آزادی کے نام پر ہر میدان میں اخلاقی قدریں پامال کر رہا ہے اس کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ لوگ اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں۔اٹلی کے ایک وزیر کی نازیبا حرکت ابھی اٹلی میں ایک وزیر صاحب نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ یہ بیہودہ اور غلیظ کارٹون ٹی شرٹس پر چھاپ کر پہننے شروع کر دیئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی کہا ہے میرے سے لو۔سنا ہے وہاں نیچے بھی جارہے ہیں۔کہتے ہیں کہ