ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 12 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 12

12 ادھر 1864ء میں عیسائیت کو فروغ دینے کے لئے عیسائیت کے حق میں سرکاری مشینری استعمال کرنے والے چیف کمشنر ہنری لارنس کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کیا گیا۔جس نے دل کھول کر عیسائیت کی نہ صرف تبلیغ کی بلکہ اس کی ترقی اور اشاعت کے لئے وسیع تر کوششیں بھی کیں۔یہ تھا سیالکوٹ کے تبلیغی "میدان جنگ" کا نقشہ اور ملکی سیاست کا ماحول۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے سیالکوٹ تشریف لائے اور ایک عام سرکاری ملازم ہونے کے باوجود اس برطانوی اقدام کے خلاف تن تنہا پُر جوش محاذ قائم کر لیا۔اس زمانہ میں عیسائیت کے دفاع میں آپ کا ایک مناظرہ بلا شبہ حکومت وقت کے آئین سے نہیں اُس کے مخصوص مفادات سے بغاوت" کے مترادف تھا۔جمعیت العلماء ہند کے ایک سابق ناظم مولانا سید محمد میاں صاحب لکھتے ہیں :۔رد عیسائیت بظاہر ایک واعظانہ اور مناظرانہ چیز ہے جس کو سیاست سے بظاہر کوئی تعلق نہیں لیکن غور کرو جب حکومت عیسائی گر ہو۔جس کا نقطہ نظر ہی یہ ہو کہ سارا ہندوستان عیسائی مذہب اختیار کر لے اور اس کی تمنا دلوں کے پردوں سے نکل کر زبانوں تک آ رہی ہو اور بے آئین اور جابر حکومت کا فولادی پنجہ اس کی امداد کر رہا ہو تو یہی تبلیغی اور خالص مذہبی خدمت کس قدرسیاسی اور کتنی زیادہ سخت اور صبر آزما بن جاتی ہے۔بلاشبہ ردعیسائیت کے سلسلہ میں ہر ایک مناظرہ، ہر ایک تبلیغ ، ہر ایک تصنیف اغراض حکومت سے سراسر بغاوت تھی۔" ( علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے از سید میاں محمد صفحہ 26 ) عیسائیت کی یلغار اور اسلام کے خلاف ان کی طرف سے تابڑ توڑ حملوں کا جواب دینے کے لئے (جہاں 1864ء میں ہنری لارنس کو وائسرائے ہند بنایا گیا وہاں )1864ء میں ہی اللہ تعالیٰ نے مستقبل کے ہادی اور رہبر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کو سیالکوٹ بھیجوا دیا۔دوران ملازمت اس مرد مجاد سے جس مسیحی کی بھی گفتگو ہوئی اسے خاموش ہونا پڑا۔آپ صحیح معنوں میں سیالکوٹ کی پوری مذہبی فضا پر چھائے ہوئے تھے اور عیسائی پادری آپ کے مدلل اور مسکت مباحثوں سے بالکل لا جواب ہو جاتے تھے۔آپ کی بیٹھک کے قریب ہی ایک بوڑھے دکاندار فضل دین کی دکان تھی جہاں شام کوشہر کے اچھے اچھے مجھدارلوگوں کا ہجوم سارہتا تھا۔گاہے گاہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام بھی تشریف لاتے اور مشن سکول کے ہیڈ ماسٹر نصر اللہ نامی عیسائی سے مذہبی امور پر معلومات افزاء گفتگو فرماتے۔ان دنوں حاجی پورہ میں ایک دیسی پادری الائشہ صاحب بھی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔ایک دفعہ ان سے آپ کا ایک مختصر سا مگر فیصلہ کن مباحثہ بھی ہوا۔پادری صاحب نے مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ عیسائیت قبول کئے بغیر نجات کا حصول ممکن نہیں۔حضرت اقدس نے جرح میں صرف یہ فرمایا کہ نجات کی صرف مفصل تفصیل بیان کیجئے۔آپ کا بس اسی قدر فرمانا تھا کہ وہ صاحب دم بخودرہ گئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ "میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا" تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 92-93)