ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 324 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 324

324 تو نہیں نکالیں گے لیکن قلم کا جہاد ہے جو ہم تمہارے ساتھ کریں گے۔اور تصویر کی اشاعت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔اس کو بتایا کہ ضمیر کی آزادی تو ہوگی لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کی دلآزاری کی جائے۔بہر حال اس کا مثبت ردعمل ہوا۔ایک مضمون بھی اخبار کو بھیجا گیا تھا جو اخبار نے شائع کر دیا۔ڈیمینش عوام کی طرف سے بڑا اچھار و عمل ہوا کیونکہ مشن میں بذریعہ فون اور خطوط بھی انہوں نے ہمارے مضمون کو کافی پسند کیا، پیغام آئے۔پھر ایک میٹنگ میں جرنلسٹ یونین کے صدر کی طرف سے شمولیت کی دعوت ملی۔وہاں گئے وہاں وضاحت کی کہ ٹھیک ہے تمہارا قانون آزادی ضمیر کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مذہبی رہنماؤں اور قابل تکریم ہستیوں کو ہتک کی نظر سے دیکھو اور ان کی ہتک کی جائے۔اور یہاں جو مسلمان اور عیسائی اس معاشرے میں اکٹھے رہ رہے ہیں ان کے جذبات کا بہر حال خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔اسلامی تعلیم کا مثبت اثر پھر ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر حسین تعلیم ہے اور کیسا اسوہ ہے اور کتنے اعلیٰ اخلاق کے آپ مالک تھے اور کتنے لوگوں کے ہمدرد تھے، کس طرح ہمدرد تھے خدا کی مخلوق سے اور ہمدردی اور شفقت کے مظہر تھے۔چند واقعات جب ان کو بتائے کہ بتاؤ کہ جو ایسی تعلیم والا شخص اور ایسے عمل والا شخص ہے اس کے بارے میں اس طرح کی تصویر بنانی جائز ہے؟ تو جب یہ باتیں ہمارے مشنری کی ہوئیں تو انہوں نے بڑا پسند کیا بڑا سراہا اور ایک کارٹونسٹ نے برملا یہ اظہار کیا کہ اگر اس طرح کی میٹنگ پہلے ہو جاتی تو وہ ہرگز کارٹون نہ بناتے ، اب انہیں پتہ چلا ہے کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔اور ساروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ٹھیک ہے ڈائیلاگ (Dialogue) کا سلسلہ چلتا رہنا چاہئے۔پھر صدر یونین کی طرف سے بھی پریس ریلیز جاری کی گئی جس کا مسودہ بھی سب کے سامنے نایا گیا اور ٹی وی پر انٹرویو ہوا جو بڑا اچھا رہا۔پھر منسٹر سے بھی میٹنگ کی۔تو بہر حال جماعت کوشش کرتی ہے۔دوسرے ملکوں میں بھی اس طرح ہوا ہے۔تو بہر حال جہاں بنیاد تھی وہاں جماعت نے کافی کام کیا ہے۔اور کارٹون کی وجہ جو بنی ہے وہ یہ ہے کہ ڈنمارک میں ایک ڈینش رائٹر نے ایک کتاب لکھی ہے ، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور قرآن جو مارکیٹ میں آچکی ہے۔اس کتاب والے نے کچھ تصویر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا کر بھیجے کو کہا تھا تو بعضوں نے بنائیں۔وہ تصویریں تھیں اور اپنا نام ظاہر نہیں کیا کہ مسلمانوں کا رد عمل ہوگا۔تو بہر حال یہ کتاب ہے جو وجہ بن رہی ہے اس اخبار میں بھی کارٹون ہی وجہ بنی تھی تو اس بارے میں بھی ان کو مستقل کوشش کرتے رہنا چاہئے اور دنیا میں ہر جگہ اگر اس کو پڑھ کر جہاں جہاں بھی اعتراض کی باتیں ہوں وہ پیش کرنی چاہئیں اور جواب دینے چاہئیں۔لیکن وہاں ڈنمارک میں یہ بھی تصور ہے، کہتے ہیں بعض مسلمانوں کے ذریعہ غلط کارٹون جو ہم نے شائع ہی نہیں کئے وہ دکھا کے مسلمان دنیا کو ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔پتہ نہیں یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے لیکن ہماری اس