ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 323 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 323

323 لئے اگر ہر طبقے کے احمدی ہر ملک میں دوسرے پڑھے لکھے اور سمجھدار مسلمانوں کو بھی شامل کریں کہ تم بھی اس طرح پر امن طور پر یہ رد عمل ظاہر کرو، اپنے رابطے بڑھاؤ اور لکھو تو ہر ملک میں ہر طبقے میں اتمام حجت ہو جائے گی اور پھر جو کرے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔جیسا کہ خود فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: 108 ) کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔اور آپ سے بڑی ہستی ، رحمت بانٹنے والی ہستی، نہ پہلے بھی پیدا ہوئی اور نہ بعد میں ہو سکتی ہے۔ہاں آپ کا اُسوہ ہے جو ہمیشہ قائم ہے اور اس پر چلنے کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کے لئے بھی سب سے بڑی ذمہ داری احمدی کی ہے، ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔تو بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین تھے اور یہ لوگ آپ کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں جس سے انتہائی بھیانک تصور ابھرتا ہے۔پس ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار محبت اور رحمت کے اسوہ کو دنیا کو بتانا چاہئے اور ظاہر ہے اس کو بتانے کے لئے مسلمانوں کو اپنے رویے بھی بدلنے پڑیں گے۔دہشت گردی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنگ سے بچنے کی بھی ہمیشہ کوشش کی ہے۔جب تک کہ آپ پر مدینہ میں آکر جنگ ٹھونسی نہیں گئی۔پھر بہر حال اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دفاع میں جنگ کرنی پڑی۔لیکن وہاں بھی کیا حکم تھا کہ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة: 191) کہ اے مسلمانو! لڑو اللہ کی راہ میں جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو۔یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اپنے پر نازل ہونے والی شریعت پر عمل کرنے والے تھے۔ان کے بارے میں ایسے نازیبا خیالات کا اظہار کرنا انتہائی ظلم ہے۔بہر حال جس طرح یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معافی مانگ لی ہے اور ہمارے مبلغ کی بھی رپورٹ ہے کہ ان میں سے ایک نے معافی مانگی تھی ، اظہار کیا تھا۔ہمارے احتجاج کا طریق اور اس کا مثبت رد عمل دوسرے مسلمانوں کو تو یہ جوش ہے کہ ہڑتالیں کر رہے ہیں، توڑ پھوڑ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا رد عمل یہی ہے کہ توڑ پھوڑ ہو اور ہڑتالیں ہوں اور جماعت احمدیہ کا اس واقعہ کے بعد جو فوری رد عمل ظاہر ہونا چاہئے تھا وہ ہوا۔احمدی کا رد عمل یہ تھا کہ انہوں نے فوری طور پر ان اخباروں سے رابطہ پیدا کیا۔اور پھر یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے کہ 2006ء کی فروری میں ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔یہ واقعہ تو گزشتہ سال کا ہے۔ستمبر میں یہ حرکت ہوئی تھی تو اُس وقت ہم نے کیا کیا تھا۔یہ جیسا کہ میں نے کہا ستمبر کی حرکت ہے یا اکتوبر کے شروع کی کہہ لیں۔تو ہمارے مبلغ نے اس وقت فوری طور پر ایک تفصیلی مضمون تیار کیا اور جس اخبار میں کارٹون شائع ہوا تھا ان کو یہ بھجوایا اور تصاویر کی اشاعت پر احتجاج کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے بارے میں بتایا کہ یہ ہمارا احتجاج اس طرح ہے، ہم جلوس