ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 325 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 325

325 فوری توجہ سے ان میں احساس بہر حال پیدا ہوا ہے۔یہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا ان لوگوں کو تو آج پتہ لگ رہا ہے۔جبکہ یہ تین مہینے پہلے کی بات ہے۔آنحضرت کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کریں تو جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ہر ملک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر جو اسلام کے بارے میں جنگی جنونی ہونے کا ایک تصور ہے اس کو دلائل کے ساتھ رد کرنا ہمارا فرض ہے۔پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ اخباروں میں بھی کثرت سے لکھیں۔اخباروں کو، لکھنے والوں کو سیرت پر کتا بیں بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔پھر یہ بھی ایک تجویز ہے آئندہ کے لئے، یہ بھی جماعت کو پلان (Plan) کرنا چاہئے کہ نوجوان جرنلزم (Journalism) میں زیادہ سے زیادہ جانے کی کوشش کریں جن کو اس طرف زیادہ دلچسپی ہوتا کہ اخباروں کے اندر بھی ان جگہوں پر بھی ، ان لوگوں کے ساتھ بھی ہمارا نفوذ رہے۔کیونکہ یہ حرکتیں وقتا فوقتا اٹھتی رہتی ہیں۔اگر میڈیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وسیع تعلق قائم ہو گا تو ان چیزوں کو روکا جا سکتا ہے، ان بیہودہ حرکات کو روکا جاسکتا ہے۔اگر پھر بھی اس کے بعد کوئی ڈھٹائی دکھاتا ہے تو پھر ایسے لوگ اس زمرے میں آتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی۔جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا (الاحزاب : 58) یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔یہ حکم ختم نہیں ہو گیا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔آپ کی تعلیم ہمیشہ زندگی دینے والی تعلیم ہے۔آپ کی شریعت ہر زمانے کے مسائل حل کرنے والی شریعت ہے۔آپ کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے۔تو اس لئے یہ جو تکلیف ہے یہ آپ کے ماننے والوں کو جو تکلیف پہنچائی جا رہی ہے کسی بھی ذریعہ سے، اس پر بھی آج صادق آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات زندہ ہے۔وہ دیکھ رہی ہے کہ کیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔پس دنیا کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔دنیا کو ہمیں بتانا ہوگا کہ جو اذیت یا تکلیف تم پہنچاتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی سزا آج بھی دینے کی طاقت رکھتا ہے۔اس لئے اللہ اور اس کے رسول کی دلآزاری سے باز آؤ۔لیکن جہاں اس کے لئے اسلام کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے بارے میں دنیا کو بتانا ہے وہاں اپنے عمل بھی ہمیں ٹھیک کرنے ہوں گے۔کیونکہ ہمارے اپنے عمل ہی ہیں جو دنیا کے منہ بند کریں گے اور یہی ہیں جو دنیا کا منہ بند کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے رپورٹ میں بتایا تھا وہاں ایک مسلمان عالم پر یہی الزام منافقت کا لگایا جارہا ہے کہ ہمیں کچھ کہتا ہے اور وہاں جا کے کچھ کرتا ہے، ابھارتا ہے۔وہ شاید میں نے رپورٹ پڑھی نہیں۔تو ہمیں اپنے ظاہر اور باطن کو ، اپنے قول و فعل کو ایک کر کے یہ عملی نمونے دکھانے ہوں گے۔