ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 320 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 320

320 لگانے کی کوشش کی جائے۔بہر حال قطع نظر اس کے کہ یہ پابندیاں لگاتے ہیں یا نہیں، ہمیں اپنے رویے، اسلامی اقدار اور تعلیم کے مطابق ڈھالنے چاہئیں، بنانے چاہئیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اسلام کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابتداء سے ہی یہ سازشیں چل رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے کیونکہ اس کی حفاظت کرنی ہے، وعدہ ہے اس لئے وہ حفاظت کرتا چلا آ رہا ہے، ساری مخالفانہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔جماعت احمدیہ کا رد عمل اس زمانے میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے ، اور اس زمانے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے ہوئے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور بعد میں آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آپ کے خلفاء نے جماعت کی رہنمائی کی اور رد عمل ظاہر کیا اور پھر جو اس کے نتیجے نکلے اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں تا کہ وہ لوگ جو احمد یوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہڑتالیں نہ کر کے اور ان میں شامل نہ ہو کر ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی درد نہیں ہے ، ان پر جماعت کے کارنامے واضح ہو جائیں۔ہمارا رد عمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر نا پاک حملے دیکھ کر بجائے تخریبی کارروائیاں کرنے کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والے ہم بنتے ہیں۔اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عشق رسول کی غیرت پر دو مثالیں دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عشق رسول کی غیرت پہلی مثال عبد اللہ آتھم کی ہے جو عیسائی تھا اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے الصلوة انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجال کا لفظ نعوذ باللہ استعمال کیا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں ایک مباحثہ بھی چل رہا تھا، ایک بحث ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا، بحث چلتی رہی اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتارہا۔یعنی جو الفاظ اس نے کہے ہیں اس کی پکڑ کے لئے۔حضرت مسیح موعود" فرماتے ہیں کہ جب بحث ختم ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہوگئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب ”اندرو نہ بائیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو د قبال کے نام سے پکارا ہے۔اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو من جانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا۔اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص