ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 321 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 321

321 اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول کو کا ذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہادیہ میں گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کر دینا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بدزبانی مستوجب سزا ٹھہرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب میں نے یہ کہا تو اس کا رنگ فق ہو گیا، چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کا چنے لگے تب اس نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع سر کے ہلانا شروع کیا جیسا ایک ملزم خائف ( ہو کر ایک الزام کا سخت انکار کر کے تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار کہتا تھا کہ تو بہ تو بہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور پھر بعد میں بھی اسلام کے خلاف کبھی نہیں بولا۔تو یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھنے والے شیر خدا کار و عمل۔وہ للکارتے تھے ایسی حرکتیں کرنے والوں کو۔پھر ایک شخص لیکھرام تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں نکالتا تھا۔اس کی اس دریدہ دینی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو باز رکھنے کی کوشش کی۔وہ باز نہ آیا۔آخر آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دردناک موت کی خبر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور ناپاک کلے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھر ام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعاسنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ 6 سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔یہ ان کے لئے نشان ہے جو بچے مذہب کو ڈھونڈتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بڑی دردناک موت مرا۔یہی اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سکھائے کہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں کو سمجھاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن بیان کرو، دنیا کو ان خوبصورت اور روشن پہلوؤں سے آگاہ کر وجود نیا کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں اور اللہ سے دعا کرو کہ یا تو اللہ تعالیٰ ان کو ان حرکتوں سے باز رکھے یا پھر خود ان کی پکڑ کرے۔اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے اپنے طریقے ہیں وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طریقے سے کس کو پکڑنا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا ردعمل پھر خلافت ثانیہ میں ایک انتہائی بے ہودہ کتاب "رنگیلا رسول" کے نام سے لکھی گئی۔پھر ایک رسالے " در تمان " نے ایک بیہودہ مضمون شائع کیا جس پر مسلمانان ہند میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ہر طرف مسلمانوں میں ایک جوش تھا اور بڑا سخت رد عمل تھا۔اس پر حضرت مصلح موعود خلیفہ امسیح الثانی نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بھائیو! میں