ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 319
319 اخبار کی معذرت قبول کرنی چاہئے تا اسلام کی اصل تعلیم ان تک پہنچے اب مثلاً ایک رپورٹ ڈنمارک کی ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، ڈینش عوام کا رد عمل یہ ہے کہ اخبار کی معذرت کے بعد مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معذرت کو مان لیں اور اس مسئلے کو پر امن طور پر ختم کریں تا کہ اسلام کی اصل تعلیم ان تک پہنچے اور Violence سے بچ جائیں۔پھر یہ ہے کہ ٹی وی پر پروگرام آ رہے ہیں کہتے ہیں کہ یہاں کے بچے ڈینشوں کے خلاف رد عمل دیکھ کر کہ ان کے ملک کا جھنڈا جلایا جا رہا ہے، ایمبیسیز (Embassies) جلائی جا رہی ہیں بہت ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔وہ یہ محسوس کر رہے ہیں گویا جنگ کا خطرہ ہے اور ان کو مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اب عوام میں بھی اور بعض سیاستدانوں میں بھی اس کو دیکھ کر انہوں نے نا پسند کیا ہے اور ایک رد عمل یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مسلمانوں کی اس دلآزاری کے بدلے میں خود ہمیں ایک بڑی مسجد مسلمانوں کو بنا کر دینی چاہئے جس کا خرچ یہاں کی فر میں ادا کریں اور کوپن ہیگن کے سپریم میئر نے اس تجویز کو پسند کیا ہے۔پھر مسلمانوں کی اکثریت بھی جیسا کہ میں نے کہا کہتی ہے کہ ہمیں معذرت کو مان لینا چاہئے لیکن ان کے ایک لیڈر ہیں جو 27 تنظیموں کے نمائندے ہیں وہ یہ بیان دے رہے ہیں کہ اگر چہ اخبار نے معذرت کر دی ہے تاہم وہ ایک بار پھر ہمارے سب کے سامنے آ کر معذرت کرے تو ہم مسلمان ملکوں میں جا کر بتائیں گے کہ اب تحریک کوختم کر دیں۔اسلام کی ایک عجیب خوفناک تصویر کھینچنے کی یہ کوشش کرتے ہیں۔بجائے صلح کا ہاتھ بڑھانے کے ان کا رجحان فساد کی طرف ہے۔ان فسادوں سے جماعت احمدیہ کا تو کوئی تعلق نہیں مگر ہمارے مشنوں کو بھی فون آتے ہیں، بعض مخالفین کی طرف سے دھمکیوں کے خط آتے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے۔تو اللہ تعالیٰ جہاں جہاں بھی جماعت کی مساجد ہیں ہمشن ہیں محفوظ رکھے اور ان کے شر سے بچائے۔مسلمانوں کے غلط رد عمل کی وجہ سے ظالم ، مظلوم بن جاتے ہیں بہر حال جب غلط رد عمل ہوگا تو اس کا دوسری طرف سے بھی غلط اظہار ہوگا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جب ان لوگوں نے اپنے رویے پر معافی وغیرہ مانگ لی اور پھر مسلمانوں کا رد عمل جب سامنے آتا ہے تو اس پر با وجود یہ لوگ ظالم ہونے کے، بہر حال انہوں نے ظلم کیا ایک نہایت غلط قدم اٹھایا ، اب مظلوم بن جاتے ہیں۔تو اب دیکھیں کہ وہ ڈنمارک میں معافیاں مانگ رہے ہیں اور مسلمان لیڈر اڑے ہوئے ہیں۔پس ان مسلمانوں کو بھی ذرا عقل کرنی چاہئے کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے رد عمل کے طریقے بدلنے چاہئیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا تھا شاید بلکہ یقینی طور پر سب سے زیادہ اس حرکت پر ہمارے دل چھلنی ہیں لیکن ہمارے رد عمل کے طریق اور ہیں۔یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ کوئی بعید نہیں کہ ہمیشہ کی طرح وقتاً فوقتاً یہ ایسے شوشے آئندہ بھی چھوڑتے رہیں، کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جائیں جس سے پھر مسلمانوں کی دلآزاری ہو۔اور ایک مقصد یہ بھی اس کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ قانوناً مسلمانوں پر خاص طور پر مشرق سے آنے والے اور برصغیر پاک و ہند سے آنے والے مسلمانوں پر اس بہانے پابندی