ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 318
318 اشاعت پر برداشت سے کام لیں۔کیا یہ درست رویہ ہے۔جب مغربی رہنما یہ کہتے ہیں کہ وہ اخبارات اور آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگا سکتے تو مجھے ہنسی آتی ہے۔کہتے ہیں کہ اگر متنازعہ کارٹونوں میں پیغمبر اسلام کی بجائے ہم والے ڈیزائن کی ٹوپی کسی یہودی ربی (Rabbi) کے سر پر دکھائی جاتی تو کیا شور نہ مچتا کہ اس سے اینٹی سمٹ ازم Anti) (Semitism کی بو آتی ہے یعنی یہودیوں کے خلاف مخالفت کی بو آتی ہے اور یہودیوں کی مذہبی دلآزاری کی جا رہی ہے۔اگر آزادی اظہار کی حرمت کا ہی معاملہ ہے تو پھر فرانس، جرمنی یا آسٹریا میں اس بات کو چیلنج کرنا قانوناً کیوں جرم ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کی نسل کشی نہیں کی گئی۔ان کارٹونوں کی اشاعت سے اگر ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی جو مسلمانوں میں مذہبی اصلاح یا اعتدال پسندی کے حامی ہیں اور روشن خیالی کے مباحث کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اس پر بہت کم لوگوں کو اعتراض ہوتا۔لیکن ان کا رٹونوں سے سوائے اس کے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام ایک پر تشدد مذہب ہے۔ان کارٹونوں نے جہاں چہار جانب اشتعال پھیلانے کے اور کیا (روز نامہ جنگ لندن۔7 فروری 2006ء) مثبت اقدام کیا ہے۔بہر حال کچھ رویہ بھی مسلمانوں کا تھا جس کی وجہ سے ایسی حرکت کا موقع ملا، لیکن ان لوگوں میں شرفاء بھی ہیں جو حقائق بیان کرنا جانتے ہیں۔غلط رو عمل اسلام کو بدنام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے میں نے مختلف ملکوں سے جو وہاں رد عمل ہوئے، یعنی مسلمانوں کی طرف سے بھی اور ان یورپین دنیا کے حکومتی نمائندوں یا اخباری نمائندوں کی طرف سے بھی جو اظہار رائے کیا گیا ان کی رپورٹیں منگوائی ہیں۔اس میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اخبار کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہیں نہ کہیں سے کسی وقت ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس سے ان گندے ذہن والوں کے ذہنوں کی غلاظت اور خدا سے دُوری نظر آ جاتی ہے۔اسلام سے بغض اور تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن میں یہ کہوں گا کہ بدقسمتی سے مسلمانوں کے بعض لیڈروں کے غلط رد عمل سے ان لوگوں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔یہی چیزیں ہیں جن سے پھر یہ لوگ بعض سیاسی فائدے بھی اٹھاتے ہیں۔پھر عام زندگی میں مسلمان کہلانے والوں کے رویے ایسے ہوتے ہیں جن سے یہاں کی حکومتیں تنگ آ جاتی ہیں۔مثلاً کام نہ کرنا، زیادہ تر یہ کہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں، سوشل ہیلپ (Social Help) لینے لگ گئے۔یا ایسے کام کرنا جن کی اجازت نہیں ہے یا ایسے کام کرنا جن سے ٹیکس چوری ہوتا ہو اور اس طرح کے اور بہت سے غلط کام ہیں۔تو یہ موقع مسلمان خود فراہم کرتے ہیں اور یہ ہوشیار تو میں پھر اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔بعض دفعہ ظلم بھی ان کی طرف سے ہو رہا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کے غلط رو عمل کی وجہ سے مظلوم بھی یہی لوگ بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ظالم بنا دیتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ شاید مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس توڑ پھوڑ کو اچھا نہیں سمجھتی لیکن لیڈرشپ یا چند فسادی بد نام کرنے والے بدنامی کرتے ہیں۔