ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 317
317 ہے۔اور اس میں اس قدر Involve ہو چکے ہیں کہ ان کا مذہب چاہے اسلام ہو، عیسائیت ہو یا اپنا کوئی اور مذہب جس سے یہ منسلک ہیں ان کی کچھ پرواہ نہیں وہ اس سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں۔اکثریت میں مذہب کے تقدس کا احساس ختم ہو چکا ہے بلکہ ایک خبر فرانس کی شاید پچھلے دنوں میں یہ بھی تھی کہ ہم حق رکھتے ہیں ہم چاہیں تو نعوذ باللہ ، اللہ تعالی کا بھی کارٹون بنا سکتے ہیں۔تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہو چکا ہے۔اس لئے اب دیکھ لیں یہ کارٹون بنانے والوں نے جو انتہائی قبیح حرکت کی ہے اور جیسی یہ سوچ رکھتے ہیں اور اسلامی دنیا کا جو رد عمل ظاہر ہوا ہے اس پر ان میں سے کئی لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ رد عمل اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے حالانکہ اس کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب تو ان لوگوں کی اکثریت جیسا کہ میں نے کہا اخلاق باختہ ہو چکی ہے۔آزادی کے نام پر بے حیائیاں اختیار کی جارہی ہیں، حیا تقریبا ختم ہو چکی ہے۔بعض انصاف پسند شرفاء کی رائے بہر حال اس بات پر بھی ان میں سے ہی بعض ایسے لکھنے والے شرفاء ہیں یا انصاف پسند ہیں انہوں نے اس نظریے کو غلط قرار دیا ہے کہ اس رد عمل کو اسلام اور مغربی سیکولر جمہوریت کے مقابلے کا نام دیا جائے۔انگلستان کے ہی ایک کالم لکھنے والے رابرٹ فسک (Robert Fisk) نے کافی انصاف سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے۔ڈنمارک کے ایک صاحب نے لکھا تھا کہ اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے اس بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ بالکل غلط بات ہے، یہ کوئی تہذیبوں کا یا سیکولر ازم کا تصادم نہیں ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق پیغمبر پر خدا نے براہ راست اپنی تعلیمات نازل کیں وہ زمین پر خدا کے ترجمان ہیں جبکہ یہ (یعنی عیسائی ) سمجھتے ہیں، (اب یہ عیسائی لکھنے والا لکھ رہا ہے ) کہ انبیاء اور ولی ان کی تعلیمات انسانی حقوق اور آزادیوں کے جدید تصور سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو گئے ہیں۔مسلمان مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں اور صدیوں کے سفر اور تغیرات کے باوجود ان کی یہ سوچ برقرار ہے جبکہ ہم نے مذہب کو عملاً زندگی سے علیحدہ کر دیا ہے۔اس لئے ہم اب مسیحیت بمقابلہ اسلام نہیں بلکہ مغربی تہذیب بمقابلہ اسلام کی بات کرتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم اپنے پیغمبروں یا ان کی تعلیمات کا مذاق اڑا سکتے ہیں تو آخر باقی مذاہب کا کیوں نہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ کیا یہ رویہ اتنا ہی بے ساختہ ہے۔کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ کوئی 10-12 برس پہلے ایک فلم Last Temptation of christ ریلیز ہوئی تھی جس میں حضرت عیسی کو ایک عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھانے پر بہت شور مچا تھا۔اور پیرس میں کسی نے مشتعل ہو کر ایک سینما کو نذرآتش کر دیا تھا۔ایک فرانسیسی نو جوان قتل بھی ہوا تھا۔اس بات کا کیا مطلب ہے۔ایک طرف تو ہم میں سے بھی بعض لوگ مذہبی جذبات کی تو ہین برداشت نہیں کر پاتے مگر ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ مسلمان آزادی اظہار کے ناطے گھٹیا ذوق کے کارٹونوں کی