ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 11
11 سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میرے پر رحم کرا دو۔میں نے اس کو کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہو گیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی۔بعد اس کے میں نیچے اُتر ا اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی نوکری کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔میں نے کہا کہ اگر پنڈت سج رام فوت ہو جائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے۔ان سب نے میری بات سُن کر قہقہہ مار کر ہنسی کی کہ کیا چنگے بھلے کو مارتے ہو۔دوسرے دن یا تیسرے دن خبر آگئی کہ اُسی گھڑی سمج رام نا گہانی موت سے اس دنیا سے گزر گیا۔" (حقیقۃ الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحه 309) آپ کی سیالکوٹ میں ملازمت اختیار کرنے سے قبل ہندوستان کو عیسائیت کی آغوش میں لانے کے لئے پورے ہندوستان بالخصوص پنجاب میں ایک مہم کا آغاز ہو چکا تھا۔عیسائیت کی پشت پر برطانوی حکومت کی پوری مشینری کام کر رہی تھی۔پادری حضرات جلسے منعقد کر کے لٹریچر تقسیم کر کے عیسی مسیح کی فتح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لہرانے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔1857ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی یہ صدا گونجنے لگی تھی کہ ہر شخص کو اپنی تمام تر قوت تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صرف شخصیات پر تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 88-89) کرنی چاہئے۔1862ء میں انگلستان کے وزیر اعظم لارڈ پا مرسٹن اور وزیر ہند چارلس وڈ کی خدمت میں سرکردہ اور اہم پر مشتمل افراد کا ایک وفد پیش ہوا۔جس میں انگلستان کے سب سے بڑے پادری آرچ بشپ آف کنٹر بری نے اس وفد کا تعارف کروایا اور وزیر ہند نے اراکین وفد سے مخاطب ہو کر کہا:۔" میرا یہ ایمان ہے کہ ہر وہ نیا عیسائی جو ہندوستان میں عیسائیت قبول کرتا ہے انگلستان کے ساتھ ایک نیا رابطہ اتحاد بنتا ہے اور ایمپائر (Umpire) کے استحکام کے لئے ایک نیا ذریعہ ہے۔" وزیر اعظم نے کہا کہ (انگریز اور بانی سلسله از مولانا عبدالرحیم در دصفحه 33) " میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اپنے مقصد میں متحد ہیں۔یہ ہمارا فرض ہی نہیں بلکہ خود ہمارا مفاد بھی اس امر سے وابستہ ہے ہم عیسائیت کی تبلیغ کو جہاں تک بھی ہو سکے فروغ دیں اور ہندوستان کے کونے کونے میں اس کو پھیلا دیں۔" انگریز اور بانی سلسله از مولانا عبد الرحیم در دصفحه 33) چنانچہ حکومتی پشت پناہی میں پادریوں کی سرگرمیاں جاری رہیں۔پنجاب میں مرکزی مشن لدھیانہ میں قائم ہوا۔جگہ جگہ گرجے تعمیر ہوئے اور لٹریچر کی اشاعت ہوئی۔چونکہ 1857ء میں ایک غدر ہو چکا تھا اس لئے عوام گھبرائی ہوئی بھی تھی۔ملک کے بعض منصف مزاج اور خدا ترس پادریوں نے بر ملا سلیم کیا کہ اگر 1857ء کی مانند پھر غدر ہوا تو عمادالدین ایسے بدسگالوں کی بدزبانیوں اور بیہودہ گوئیوں سے ہوگا۔