ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 316
316 حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے خطبات کے ذریعہ شدید رنج و غم اور مذمت کا اظہار آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین پر مبنی حرکات اور آپ کی پاک ذات پر بے ہودہ جملوں کے جواب میں شیر خدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبات کا ایک سلسلہ شروع فرمایا۔آغاز میں 6 خطبات لگا تار دیئے اور پھر ضرورت محسوس ہونے پر اس سلسلہ کو جاری رکھا۔حضور نے اپنے ان خطبات میں نہایت احسن رنگ میں ان خاکوں پر اپنے جذبات کا اظہار فرما کر اسلام کی حسین و پیاری تعلیم بیان فرمائی۔اور فرمایا کہ جماعت احمد یہ توڑ پھوڑ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ہم دلوں کو قلم کے جہاد اور اپنے عمل سے جیتے ہیں۔حضور نے ان خطبات میں احباب جماعت کے لئے ایک جامع لائحہ عمل بھی تجویز فرمایا۔خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء حضور نے خطبات کے اس سلسلہ کے آغاز میں مورخہ 10 فروری 2006 ء کے خطبہ میں ان کارٹونوں کے بارے میں فرمایا : جکل ڈنمارک اور مغرب کے بعض ممالک کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے، ابھارنے والے، کارٹون اخباروں میں شائع کرنے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ رہی ہے اور ہر مسلمان کی طرف سے اس بارے میں رد عمل کا اظہار ہو رہا ہے۔بہر حال قدرتی طور پر اس حرکت پر رد عمل کا اظہار ہونا چاہیے تھا۔اور ظاہر ہے احمدی بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق میں یقیناً دوسروں سے بڑھا ہوا ہے کیونکہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے حضرت خاتم الانبیاء حمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا فہم و ادراک دوسروں سے بہت زیادہ ہے اور کئی احمدی خط بھی لکھتے ہیں اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں، تجاویز دیتے ہیں کہ ایک مستقل مہم ہونی چاہئے ، دنیا کو بتانا چاہئے کہ اس عظیم نبی کا کیا مقام ہے تو بہر حال اس بارے میں جہاں جہاں بھی جماعتیں Active ہیں وہ کام کر رہی ہیں لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگئیں لگانے کی صورت میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔مذہب کا تقدس ختم ہو چکا ہے اس زمانے میں دوسرے مذاہب والے مذہبی بھی اور مغربی دنیا بھی اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں۔اس وقت مغرب کو مذہب سے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان کی اکثریت دنیا کی لہو ولعب میں پڑ چکی